عصری تقاضے — چند قابل غور پہلو
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۹
عصری تقاضے — چند قابل غور پہلو
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4291)۔ یعنی اللہ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو اٹھائے گا جو اس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: يُبَيِّنُ لَهُمْ أَمْرَ دِينِهِمْ (حلیۃ الاولیاء، جلد 9، صفحہ 97)۔ یعنی امت محمدی کے لیے ان کے دین کو واضح کرے گا۔
یہ کوئی پُر اسرار بات نہیں۔ یہ فطری قانون کے تحت پیش آنے والا ایک معاملہ ہے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کی عمر بہت محدود ہے۔ وہ سو سال سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ اس طرح ہمیشہ ایک کے بعد دوسری نسل آتی رہتی ہے۔ ایک تیار شدہ نسل ختم ہو جاتی ہے، اس کے بعد ایک غیر تیار شدہ نسل پیدا ہو کر اس کی جگہ لے لیتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح پہلی نسل کو تیار کیا گیا تھا، اُسی طرح دوبارہ اگلی نسلوں کو تیار کیا جائے۔ زوال کا یہ عمل ایک مسلسل عمل ہے۔ اور اس کو انحطاط (degeneration) کہا جاتا ہے۔ تجدید اِسی صورت حال کی اصلاح کا نام ہے۔ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فطری پر اس کے معاملے میں امت محمدی کا کوئی استثنا نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت پر جب زوال کا دور آیا تو بار بار مجددینِ اسلام پیدا ہوتے رہے۔ مثلاً عمر بن عبدالعزیز اُموی (وفات 720ء)، ابن تیمیہ الحرانی (وفات 1328ء)، شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1762ء)، وغیرہ۔ یہ لوگ بجا طور پر مجدد تھے، اور انھوں نے اپنے زمانے کے لحاظ سے تجدید کا کام کیا۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ثابت شدہ طور پر اس کے دو دور معلوم ہوتے ہیں— روایتی دور (traditional period)، اور سائنسی دور (scientific period)۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پچھلی صدیوں میں جو مجددینِ اسلام پیدا ہوئے، وہ سب روایتی دور میں پیدا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues