آفاق اور انفس میں ظاہر ہونے والی نشانیاں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱
آفاق اور انفس میں ظاہر ہونے والی نشانیاں
قرآن میں واضح طور پر یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ بعد کے دور میں فطرت کی چھپی ہوئی نشانیاں (signs) ظاہر ہوں گی۔ اور یہ ضرورت ہوگی کہ ان نشانیوں کی روشنی میں خدا کے دین کو از سر نو مدلل کیا جائے۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقَّ (41:53)۔ یعنی عنقریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھل جائے گا کہ یہ حق ہے۔
آفاق اور انفس میں نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ وہ واضح طور پر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آچکی ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کر دیا ہے، اور وہ بعد کے زمانے میں ظاہر ہو گا (یونس، 10:92)۔ اس آیت کے نزول کے بعد تقریبا ایک ہزار سال تک یہ واقعہ لوگوں کے لیے پراسرار بنا رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار سائنسی ذرائع سے یہ ممکن ہوا کہ فرعون کے اس جسم کو دریافت کیا جا سکے اور اس کے زمانے کو معلوم کیا جا سکے۔ اس طرح کی بہت سی نئی حقیقتیں ہیں، جو قرآن کی صداقت کی گواہی دیتی ہیں۔ یہ دورِ جدید کے تجدیدی کام کا ایک حصہ ہے، یعنی ان نئی دریافتوں کو قرآن کی صداقت کی حیثیت سے پیش کرنا۔
لسان قوم میں دعوت
قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4)۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کر دے۔ دوسرے الفاظ میں، خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مدعو قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔
قرآن کی اس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues