Al-Risala · May 2022 · page 5

عمرہ کا سبق

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۵

عمرہ کا سبق

بعد کے زمانے کے لیے حدیث رسوال میں بہت سی پیشین گوئیاں ہیں۔ ایک پیشین گوئی کے مطابق، بعد کے زمانے میں امت کے پاس مال کی فراوانی ہو جائے گی ۔ وہ تفریح کے لیے حج اور عمرہ کا سفر کرنے لگیں گے ۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَحُجُّ أَغْنِيَاءُ أُمَّتِي ‌لِلنُّزْہَةِ، وَأَوْسَاطُهُمْ لِلتِّجَارَةِ، وَقُرَّاؤُهُمْ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ، وَفُقَرَاؤُهُمْ لِلْمَسْأَلَةِ (تاریخ بغداد للخطيب بغدادی، حدیث نمبر 5433)۔ یعنی، لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، جب کہ میری امت کے مالدار تفریح کے لیے حج کریں گے، ان کا مڈل کلاس تجارت کے لیے، اور ان کے علما دکھاوا کے لیے اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے۔

آج کل مسلمانوں میں عمرہ کی دھوم ہے۔ عمرہ کے لیے لوگ اتنا زیادہ مکہ جانے لگے ہیں، جو تقریباً حج کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ کا عمرہ کے بارے میں اسوہ کیا تھا۔ ہجرت کے بعد 6 ہجری میں رسول اللہ نے مدینہ میں اعلان کیا تھا کہ عمرہ کے لیے مکہ جانا ہے۔ پھر مدینہ سے آپ تقریباً چودہ سو صحاب کے ساتھ نکلے تا کہ مکہ پہنچ کر عمرہ کریں۔ لیکن حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر حالات بدل گئے۔ اب آپ نے نیا فیصلہ لیا۔ وہ یہ کہ درمیان سفر سے مدینہ واپس چلے جائیں، اور اگلے سال، 7 ھ میں دوبارہ مکہ جا کر عمرہ کریں۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرة القضاء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ رسول اللہ کے اس عمل سے ایک اصول ملتا ہے۔ وہ یہ کہ زندگی کا منصوبہ ناقابل تبدیل (unchangeable) منصوبہ نہیں ہے، بلکہ حالات کے تحت ہے۔ اگر حالات بدل جائیں تو منصوبہ بھی بدل سکتا ہے۔ خواہ وہ عمرہ جیسے مقدس عبادت کا منصوبہ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن موجودہ زمانے میں عمرہ اور حج کے لیے بھیڑ لگانے والے اس پیغمبرانہ اصول کو نہیں جانتے۔ وہ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لیں تو برابر دشمن ہی سمجھتے رہیں گے ۔ اگر کسی سے لڑائی چھیڑ دیں، تو لڑائی کو برابر جاری رکھیں گے۔ وہ عمرہ تو جانتے ہیں، لیکن عمرہ کا سبق کیا ہے، اس سے وہ بے خبر ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page