Al-Risala · May 2022 · page 13

وقت کی اہمیت

الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۳

وقت کی اہمیت

قرآن میں نماز کا حکم ان الفاظ میں آیا ہے: اِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتَابًا مَّوْقُوْتًا (4:103) ۔ یعنی بیشک نماز مومنوں پر فرض ہے وقت کی پابندی کے ساتھ: Verily, the prayer is enjoined on the believers at fixed hours اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانچ وقت کی نماز تو اوقات کی پابندی کے ساتھ انجام دینا ہے، لیکن دوسرے کاموں میں اوقات کی پابندی ضروری نہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان وہ ہے، جس کی زندگی میں وقت کی پابندی ایک جزءِ حیات کے طور پر شامل ہو جائے، وہ ہر کام کو وقت کی پابندی کے ساتھ انجام دینے لگے، اور اسی اصول عام کے مطابق، نماز بھی وقت کے پورے اہتمام کے ساتھ وہ ادا کرے۔

وقت کی پابندی کوئی سادہ بات نہیں۔ وقت کی پابندی کا تعلق زندگی کے نظم و ضبط سے ہے۔ ذمے دار انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر کام کو نظم و ضبط کے ساتھ انجام دے۔ وقت کی پابندی کا مطلب صرف اپنے اوقات کو منظم انداز میں انجام دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ کیوں کہ آدمی سماجی حیوان (social animal) ہے۔ ایک آدمی جب اپنا کام منظم انداز میں انجام دیتا ہے، تو وہ دوسروں کے ساتھ یہ تعاون کرتا ہے کہ وہ بھی کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے کام کو منظم انداز میں انجام دے۔

وقت کی پابندی کا گہرا تعلق دوسرے انسانوں کے ساتھ خیر خواہی سے ہے۔ وقت کی پابندی ذمے دار انسان کی علامت ہے۔ ذمے دار انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ وقت کے معاملے میں فرض شناس نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جب آپ وقت ضائع کرتے ہیں تو یہ سادہ بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ڈبل غلطی کا ارتکاب ہوتا ہے، یعنی وہ اپنے وقت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے وقت کو ضائع (swallow) کرنا بھی ہوتا ہے۔ وقت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو گھٹا کر بیان کرنا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2022 All issues

Printed page