اظہارِ آیات کا دور
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۷
کے نصف اول میں کیا گیا تھا، وہ اب یقینی طور پر ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اس لیے اب یہ دریافت کرنے کا وقت ہے کہ اس تبیین حق سے مراد کیا ہے تا کہ اس کو اپنے علم کا حصہ بنایا جائے۔ اور ایسی تفسیر قرآن لکھی جائے، جو سلف کے استنباط اور تشریحات پر مبنی نہ ہو، بلکہ دورِ حاضر کی دریافت شدہ معلومات پر مبنی ہو۔
جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر میں قرآن کے تقاضوں کا جاننا ممکن نہ ہوگا۔ دورِ حاضر کے سوالوں کا جواب علمائے سلف کی کتابوں میں نہیں ملے گا، بلکہ اس کا جواب جب بھی ملے گا، وہ دورِ حاضر کے اہل علم کی کتابوں میں ملے گا۔ قیاساً اس میں وہ غیر مسلم افراد یا اقوام شامل ہیں، جن کے بارے میں حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ دین کی تائید کریں گے (اِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالِ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ) المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640 ۔ اس روایت کے مطابق، جو لوگ اس حقیقت کو کھولیں گے، وہ غیر اہل ایمان ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر سائنسی اندازے کے مطابق، تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ایک عظیم کائناتی دھماکہ ہوا۔ اس عظیم دھماکے کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کی ڈسکوری سیکولر اہل علم نے کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ عظیم دھماکہ ہماری کائنات کا آغاز تھا۔ غالباً یہی کا ئناتی واقعہ ہے، جس کا قرآن میں ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا(21:30)۔ (21:30) ۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان رتق کی شکل میں تھے۔ رتق کا مطلب ہےمنضم الاجزاء (joined together) یعنی انتہائی شدت کے ساتھ باہم جڑے ہوئے۔ پھر اللہ نے ان کا فتق کیا، یعنی یہ تمام اجزاء ایک دوسرے سے الگ الگ کر دیے گئے۔ اب اس سے غافل ہونا، مجرمانہ فعل ہوگا، اور یہ بھی کہ جن ایشوز کو لے کر ساری دنیا کے مسلمان بڑے بڑے مظاہرے کر رہے ہیں، وہ سب نہ صرف بے سود بلکہ غیر متعلق ہیں۔ اب کرنے کا صرف ایک کام ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تبیینِ حق کا جو موقع دیا ہے، اس کو استعمال کیا جائے۔