واضح تقریر یا تحریر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۹
واضح تقریر یا تحریر
تقریر یا تحریر کی ایک خاص صفت یہ ہے کہ اس میں وضوح (clarity) ہو۔ تجربہ بتاتا ہے کہ لوگوں کی تقریر یا تحریر میں جو چیز سب سے کم پائی جاتی ہے، وہ وضوح ہے۔ ایسے لوگ بہت ملیں گے، جو بظاہر علمی تقریر یا گفتگو کر سکیں۔ لیکن ایسے لوگ بہت کمیاب ہیں، جن کی گفتگو اور تقریر میں وضوح پایا جائے۔
کلام میں وضوح کی ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ لکھنے یا بولنے والا متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کا فرق جانتا ہو۔ وہ جب لکھے یا بولے تو اس سے پہلے وہ خود اپنی سوچ میں اس اعتبار سے وضوح پیدا کر چکا ہو۔ جو آدمی پیشگی طور پر اپنی سوچ میں وضوح پیدا کر لے، اسی کے کلام میں وضوح (clarity) کی صفت پائی جائے گی، ورنہ نہیں۔ مثلاً آپ ترکی کی عثمانی خلافت کے خاتمہ پر مضمون لکھیں، اور اس کے خاتمہ کا واحد سبب یہ بتائیں کہ کمال اتاترک نے 1921 میں فوجی کمانڈر بننے کے بعد عثمانی خلافت (Ottoman Empire) کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ مگر یہ پوری بات نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس کے إلغا (abolish) سے پہلے دنیا میں نیشن اسٹیٹ کا تصور آ چکا تھا، اور اس کے زیر اثر ترکی کی خلافت کے ماتحت عرب ملکوں میں طاقت ور انداز میں عرب نیشنلزم کی تحریک پیدا ہو چکی تھی۔ اس کے بعد جب 1922 میں کمال اتاترک نے عثمانی خلافت کا إلغا کیا تو یہ دراصل ایک ہونے والے واقعہ کا اعلان تھا، نہ کہ خود ہونے والے واقعہ کو وجود میں لانا۔ ایسی حالت میں لکھنے یا بولنے والا آدمی اگر کمال اتاترک کے ذریعہ کیے جانے والے الغائے خلافت کو صرف اتاترک کی طرف منسوب کرے، تو اس کا کلام غیر واضح ہو کر رہ جائے گا۔
کلام میں وضوح نام ہے اس بات کا کہ لکھنے یا بولنے والا کلام کے متعلق اجزاء اور کلام کے غیر متعلق اجزاء کو ایک دوسرے سے الگ کر کے اپنی بات کہے۔