شکر سب سے بڑی عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۶
شکر سب سے بڑی عبادت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ مثلاً صحیح البخاری (حدیث نمبر 6490)، صحیح مسلم (حدیث نمبر 2963) جامع الترمذی (حدیث نمبر 2513)، سنن ابن ماجه (حدیث نمبر 4142)، وغیرہ۔ مسند احمد (حدیث نمبر 10246) کے الفاظ یہ ہیں: اُنْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ - قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ - عَلَيْكُمْ۔ یعنی، تم اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے اور تم اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے، کیوں کہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو کم نہیں سمجھو گے۔
اس حدیث کی مزید تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے ۔ ایک مرفوع روایت کے مطابق رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَصَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ، وَ نَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ، كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، وَمَنْ نَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، لَنْ يَكْتُبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا (مسند الشاميين للطبرانی، حدیث نمبر 505)۔ یعنی، دو صفتیں ہیں جو کسی کے اندر ہوں تو اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔ جو اپنے دین کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے، اور دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس سے کم ہے پھر وہ اللہ کا شکر ادا کرے، اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے ۔ اور جو اپنے دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس سے بڑھ کر ہے پھر وہ اس پر افسوس کرے جو مادی برتری اللہ نے اس کے مقابل کو دی تو اللہ اس کو ہر گز شاکر و صابر نہیں لکھے گا۔ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ کسی بندے سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طور پر دریافت کرے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کا سینہ بھرا ہوا ہو ۔ اس کی روح میں شکر کا ابدی چشمہ جاری ہو جائے۔ وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہو کہ کسی بھی حال
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues