شکر میں جینا سیکھیے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۸
شکر میں جینا سیکھیے
کسی انسان کو شکر کا اعلیٰ درجہ کیسے حاصل ہوتا ہے۔ مئی 2012 میں میں نے ترکی کا سفر کیا۔ وہاں مجھ کو جو پانی پینے کے لیے دیا گیا، وہ پانی اتنا زیادہ فریش (fresh) تھا، اور پینے میں اتنا زیادہ میرے اعلیٰ ذوق کے عین مطابق تھا۔ میں نے پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا، اور سوچنے لگا کہ خالق نے یہ کیسے جانا کہ میرے بندے کو ایسا پانی چاہیے، اور اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے بندے کی عین طلب کے مطابق، اس کو پانی فراہم کریں۔
کوئی چیز پُر لذت اسی لیے ہے کہ ہمارے اندر لذت کا احساس موجود ہے۔ اگر لذت کا احساس نہ ہو، تو کوئی بھی چیز لذت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ سائنسی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کی زبان میں تقریبا دس ہزار ذائقہ خانے (taste buds) ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے اندر جتنے ذائقہ خانے ہیں، ان کے عین مطابق خدا نے ہمارے آس پاس کی دنیا میں فل فلمینٹ (fulfillment) کا سامان بھی مہیا کر دیا ہے۔ یہ خدا کی قدرت کا انتہائی انوکھا ظاہر ہ ہے۔ کیوں کہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کسی ذائقے کو اس وقت جانتا ہے، جب کہ وہ خود اس کا تجربہ کرے۔ ذاتی تجربے کے بغیر کسی ذائقے کو جاننا انسان کے لیے ممکن نہیں۔
ایک سنجیدہ انسان جب دنیا میں کسی ذائقے کا تجربہ کرتا ہے تو یہ احساس اس کو شکر کے اتھاہ جذبے سے سرشار (overwhelm) کر دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس منعم کا اعتراف کرے، لیکن وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس وہ الفاظ نہیں، جن کے ذریعے وہ اس عظیم نعمت کا اعتراف کر سکے۔ یہ اس کے لیے ایک ناقابل تصور تجربہ ہوتا ہے۔ اسی تجربے کا نام شکر ہے۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ اعلیٰ ہوتا ہے کہ منعم کے لیے زبان سے شکر کی ادائیگی کے ہر الفاظ اس کو کمتر لگنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی پوری شخصیت ایک زبان بن جاتی، اور وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے رب کا شکر ادا کرتا۔ اس کا پورا وجود شکر کے احساس میں ڈھل جاتا، اور وہ زبان سے شکر کے الفاظ بولنے والا نہیں، بلکہ سراپا شکر میں جینے والا انسان بن جاتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues