Al-Risala · September 2022 · page 30

فخر اور شکر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۰

فخر اور شکر

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے پُر اعتماد لہجے میں کہا: میں پورے فخر اور شکر کے ساتھ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فلاں دینی ماحول میں پیدا کیا، اور اس نے مجھے فلاں ادارے میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا موقع عطا فرمایا، وغیرہ۔

یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ اس قسم کی بات بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں کہتے ہیں۔ یہ الفاظ بظاہر خوب صورت معلوم ہوتے ہیں، لیکن وہ انتہائی بے معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فخر اور شکر دونوں دو مختلف جذبات ہیں۔ جہاں فخر ہوگا، وہاں شکر نہیں ہوگا اور جہاں شکر ہوگا، وہاں فخر نہیں ہوگا۔ جو لوگ ایسے الفاظ بولیں، ان کے اندر فخر تو ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی شکر کا جذبہ ان کے اندر ہرگز موجود نہیں ہو سکتا۔

شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خداوند ذوالجلال کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ خداوند ذوالجلال کی نعمت کا احساس فوراً ہی آدمی کے اندر اپنی بے مانگی کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور اپنی بے مانگی کے احساس کے بعد کوئی شخص کبھی فخر کا تحمل نہیں کر سکتا۔ اس قسم کے احساس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ”بے کچھ“ کے مقام پر پاتا ہے اور خداوند ذوالجلال کو ”سب کچھ“ کے مقام پر۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات کا حامل ہو، اس کے لیے فخر ایک مضحکہ خیز لفظ بن جائے گا۔ ایسا آدمی سب کچھ بھول کر شکرِ خداوندی کے جذبے سے سرشار ہو جائے گا۔ اس کے اندر فخر جیسی چیز کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ شکر کی توفیق ہمیشہ عجزِ کامل کی سطح پر ہوتی ہے جس آدمی کے اندر عجزِ کامل کی اعلیٰ ربانی صفت نہ ہو، وہ شکر کا تجربہ بھی نہیں کر سکتا۔ فخر کے ساتھ شکر کا لفظ بولنا، بتاتا ہے کہ ایسا آدمی، امتحان کی اصطلاح میں، مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق ہے۔ ایسا کہنے والا شخص اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ فخر اور شکر دونوں کی اصل حقیقت سے بے خبر ہے۔ وہ نہ فخر کی نفسیات کو جانتا ہے اور نہ شکر کی نفسیات کو۔ اگر وہ دونوں کی حقیقت سے باخبر ہوتا تو وہ اس طرح، فخر اور شکر کے متضاد الفاظ کو ایک ساتھ نہ بولتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر ہمیشہ نفی فخر کی زمین پر پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اثبات فخر کی زمین پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues

Printed page