Al-Risala · September 2022 · page 39

شکر کی نفسیات میں جینا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۹

شکر کی نفسیات میں جینا

مسلمان ہر روز اپنی نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (1:1)۔ یعنی ساری حمد صرف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ حمد کی حقیقت شکر ہے۔ "ساری حمد اللہ کے لیے ہے" کا مطلب یہ ہے کہ سارا شکر اللہ کے لیے ہے۔

قرآن کی اس آیت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو صرف زبان سے پڑھ دیا جائے، بلکہ وہ ایک تربیت کا کلمہ ہے۔ وہ ہر روز مسلمان کو ایک حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ روزانہ پیش آنے والے واقعات پر غور کرے۔ وہ واقعات کی ایسی مثبت توجیہ (positive explanation) تلاش کرے، جو اس کو ہر حال میں شکر کرنے والا انسان بنا دے، وہ ہر دن اس احساس سے بھرار ہے کہ کائنات کا خالق ایک نہایت مہربان خالق ہے، وہ ہر وقت خالق کے لیے اور تمام انسانوں کے لیے شکر و اعتراف کا رسپانس (response) دیتا رہے۔

قرآن کی یہ آیت مومن کی حقیقی تصویر کو بتا رہی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو اَلْحَمْدُ للّٰہ کی نفسیات میں جیے۔ اس کے برعکس، جو انسان عملاً لا حَمْدَ للّٰہ کی نفسیات میں جیتا ہو، وہ سچا مومن نہیں۔ وہ زبان سے تو اَلْحَمْدُ للّٰہ کہتا ہے، لیکن اس کا دل شکایتی مزاج کی بنا پر عملاً یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ لا حَمْدَ للّٰہ، یعنی اللہ کے لیے کوئی حمد نہیں۔ یہ نفسیات منافقت کی نفسیات ہے، نہ کہ ایمان کی نفسیات۔ اس معاملہ کا تعلق حالات کی توجیہ سے ہے۔ جو آدمی حالات کی مثبت توجیہ کرے، وہ اَلْحَمْدُ للّٰہ کی نفسیات میں جیے گا، اور جو آدمی حالات کی مثبت توجیہ نہ کر سکے، وہ لا حَمْدَ للّٰہ کی نفسیات میں جینے والا انسان بن جائے گا۔ اَلْحَمْدُ للّٰہ شکر کا کلمہ ہے اور لا حَمْدَ للّٰہ ناشکری کا کلمہ۔ گویا کہ اَلْحَمْدُ للّٰہ کہنے سے پہلے ایک اور چیز مطلوب ہے، اور وہ ہے الحمد للہ کی شعوری معرفت۔ جو آدمی الحمد للہ کہنے سے پہلے اس کی شعوری معرفت حاصل کر چکا ہو، وہی درست طور پر اَلْحَمْدُ للّٰہ کہے گا، اور جو آدمی اس شعوری معرفت سے خالی ہو، اس کی زندگی میں الحمد للہ ایک حقیقت کے طور پر شامل نہیں ہوسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues

Printed page