مشقتوں کے درمیان
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۴
مشقتوں کے درمیان
قرآن کی سورہ البلد میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے ۔ اس قانون کا تعلق تمام انسانوں سے ہے ، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ، خواہ وہ بظاہر اچھے ہوں یا برے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے : ” ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے“ (90:4) ۔
قرآن کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں انسان کے ساتھ بار بار پر مشقت حالات پیش آئیں ، اس کو مختلف قسم کی مشکلات سے گزرناپڑے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ کسی بھی تدبیر کے ذریعہ اس قانون کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ہر انسان کو لازماً اس امتحان سے گزرنا ہے۔ اس دنیا میں مشقتوں سے فرار ممکن نہیں۔
یہ ایک عام انسانی تجربہ ہے کہ زندگی مشقتوں سے خالی نہیں۔ علمی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوا ہے۔ روسی ماہر نفسیات نمیلو(Anton (Anton Vitalievich Nemilov, 1879-1942) نے لکھا ہے ۔ یہ ناقابل تصور ہے کہ انسانی زندگی المیہ سے خالی ہو:
Human life is unthinkable without tragedies, without the tragic element. The more highly developed and nearer to perfection man is, the greater are the possibilities for tragic conflicts. (Biological Tragedy of Woman, p. 13-14)
مشقت جب خود فطرت کے قانون کے مطابق ، انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے تو ہمیں اس کو مان کر اس کا حل تلاش کرنا چاہیے ، نہ کہ اس کا انکار کر کے۔ زندگی کو اس نہج پر کیوں بنایا گیا۔ یہ خود انسان کے فائدے کے لیے ہے۔ مشقتیں انسان کو انسان بناتی ہیں ۔ جو انسان مشقتوں کا تجربہ نہ کرے وہ زندگی کی گہری حقیقتوں سے بے خبر رہے گا۔ مشقت ایک کورس ہے جو آدمی کو گہری حقیقتوں سے واقف کراتا ہے۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو ظہور میں لاتا ہے۔ وہ کسی آدمی کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ مشقت زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی ہے۔ مشقت ہر قسم کی ترقیوں کا زینہ ہے ، جہاں مشقت نہیں وہاں ترقی بھی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues