Al-Risala · July 2022 · page 17

مشکل میں آسانی

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۷

ہے، اس برانچ کو ایکولوجی (Ecology) کہتے ہیں۔ یعنی وہ سائنسی طریقہ مطالعہ جس میں کسی ماحول میں رہنے والے جاندار مخلوقات (بشمول انسان) اور بے جان مخلوق (پیڑ، پودے، پہاڑ وغیرہ) کے ایک دوسرے پر اثرات اور تعلقات کی تحقیق کی جاتی ہے:

Ecology, also called bioecology, bionomics, or environmental biology, study of the relationships between organisms and their environment. Ecology is the study of organisms and how they interact with the environment around them. اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ یہ تخلیقات انسان کو اس کے خالق کی یاددہانی کراتی ہیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کائناتی نشانیوں کے ذریعہ اللہ رب العالمين کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50) کا کیس بن جائے۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ خدا اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔ وہ ہر چیز میں اللہ کی کارفرمائی کا مشاہدہ کرے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیے ایک زندہ عقیدے کا معاملہ بن جائے۔ مگر انسان ان نشانیوں کے درمیان بے خبری کی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بوڑھاہوجاتا ہے، اور پھر بڑھاپا اس کے لیے ایک شاکنگ تجربہ بن کر یاد دلاتا ہے کہ خالق کے کتنے انوکھے انعامات ہیں۔ مگر وہ اس کے ذریعے خدا کو جاننے کے معاملے میں اندھا بہرا بنا رہا۔ اس کے بعد بڑھاپا آخری وارننگ کے لیے آتا ہے۔ حدیث میں ہے:مَنْ عُمِّرَ سِتِّينَ سَنَةً، أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً، فَقَدْ عُذِرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمْرِ (مسند احمد، حدیث نمبر 9251)۔ یعنی جس کو ساٹھ سال یا ستر سال کی عمر دی گئی، اس کے لیے عمر کے معاملے میں عذر پورا کر دیا گیا۔

جو خدائی نشانیوں (آیات) کے باوجود اس زمین پر بے خبر بنا رہے، اس کے بعد اس کے لیے قیامت کا دھماکہ ہے، جو انسان کو آخری طور پر جگاتا ہے۔ لیکن اس وقت انسان کا جاگنا اس کے کچھ کام نہیں آتا۔ (19 اگست 2020)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page