الفاظ، الفاظ، الفاظ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۹
مطالعہ حدیث شرح مشکوۃ المصابیح عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ اور آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ اور جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (متفق علیہ)
ہر عمل کا ایک ظاہری نقشہ (form) ہوتا ہے۔ مگر کوئی عمل صرف اپنے نقشہ یا خارجی صورت کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر عمل کی قیمت اس داخلی کیفیت یا اس قلبی محرک کے اعتبار سے ہوتی ہے جو عمل کے وقت آدمی کے اندر پایا جائے۔ مثلاً ہجرت یا ترک وطن اگر کسی دنیوی مقصد کے لیے ہو تو آدمی کو صرف اس کا مطلوب دنیوی مقصد حاصل ہوگا۔ اور اگر اس کی ہجرت کسی دینی مقصد، مثلاً حق کی اشاعت کے لیے ہو تو ایسی صورت میں آدمی کو حق کی اشاعت کا انعام دیا جائے گا۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اچانک ایک آدمی ہمارے سامنے آیا، بہت سفید کپڑوں والا اور بہت سیاہ بالوں والا۔ اس کے اوپر سفر کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اور ہم میں سے کوئی شخص اس کو پہچانتا نہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملا دیے۔ اور اپنے دونوں ہاتھ آپ کے دونوں زانو پر رکھ دیے۔ اور کہا کہ اے محمد، مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج کرو اگر اس کی استطاعت
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues