بڑھاپے کا تجربہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۵
بڑھاپے کا تجربہ
عربی زبان میں ایک مقولہ ہے— بڑھاپا نو جوانی کا ختم ہو جانا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک نئے مرحلے کی تیاری کے لیے موقع ہے (الشيخوخة ليست فقدان الشباب، وإنما مرحلة جديدة للفرصة)۔ بڑھاپے کا تجربہ خالق نے انسان کے لیے کیوں مقدر کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ تواضع (modesty) کی اہمیت کو سمجھے۔ انسان کے لیے ہر قسم کی ترقی ماڈسٹی کے ساتھ رکھ دی گئی ہے۔ مگر تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ انسان تعلیم وتربیت کے ذریعہ ماڈسٹی کی اہمیت کو دریافت نہیں کر پاتا۔ اس لیے خالق نے انسان کے لیے یہ مقدر کیا کہ وہ بڑھاپے کے پر مشقت تجربہ سے گزرے، اور غور وفکر کے ذریعے ماڈسٹی کی حکمت کو دریافت کرے۔ زمین کی کشش (gravitational pull) ایک عجیب نعمت ہے۔ کشش کے نظام کے بغیر زمین پر انسان کی زندگی کا فروغ ممکن ہی نہ ہوتا۔ اس لیے خدا نے نیوٹن (1727-1642ء) کے واسطے سے انسان کے لیے ایپل شاک (apple shock) کا تجربہ مقدر کیا۔ تاکہ انسان زمین کی قوت کشش کو دریافت کرے، اور اللہ کی رحمت سے باخبر ہو کر اللہ کا شکر گزار بندہ بنے۔ اسی مصلحت کے تحت خالق نے انسان کے لیے بڑھاپے کا دور مقدر کیا۔ بڑھاپا انسان کے لیے گویا ایپل شاک ہے۔
انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شاک کے بغیر گہری باتوں کو پکڑ نہیں پاتا۔ بڑھاپا انسان کے لیے زندگی کی حقیقت کو پکڑنے کا آخری دور ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے بڑھاپے کے طور پر انسان کو سچائی کی دریافت کا آخری موقع عطا کیا ہے۔ تاکہ پر مشقت تجربہ کے ذریعہ انسان کے اندر سوچ جاگے، اور انسان اپنی زندگی کو زیادہ درست انداز میں منظم کرے ۔ بڑھاپا انسان کے لیے گویا تو بہ اور اصلاح کا دور ہے۔ بڑھاپا اس لیے ہے کہ انسان اپنے آخری زمانے میں اس حکمت کو دریافت کرے، جس سے وہ اپنے ابتدائی دور میں بے خبر رہا ہے۔ بڑھاپا سادہ معنی میں نو جوانی کا ختم ہو جانا نہیں ہے، بلکہ ایک نیا مرحلہ ہے۔ زندگی کا آخری موقع جس میں انسان خدا کی اسکیم آف تھنگ کو جانے اور اس کے مطابق عمل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues