الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴
انسان کی تخلیق
انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے۔ انسان کی پیدائش کا مقصد انسان کو فطری ترقی کا موقع فراہم کرنا ہے۔ خالق جب زمین پر ایک درخت اگاتا ہے تو وہ درخت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ زمین کے مواقع کو اویل کرے تا کہ مسلسل طور پر اس کا گروتھ (growth) جاری رہے۔ اب جو درخت ان مواقع کو اویل کرے وہ سر سبز اور بڑا درخت بنے گا، اور جو ایسا نہ کرے، وہ مرجھا کر فوراً ختم ہو جائے گا۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۔ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ۔ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ (14: 24-26)۔ یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کوئی ثبات نہ ہو۔
درخت کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ پوری کائنات کو اپنا غذائی دسترخوان بناتا ہے، وہ زمین سے پانی اور معدنیات اور نمکیات لیتا ہے، اور ہوا اور سورج سے اپنے لیے غذا حاصل کرتا ہے۔ وہ نیچے سے بھی خوراک لیتا ہے اور اوپر سے بھی۔ اس طرح بیج سے ترقی کر کے ایک تناور درخت کی صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہو جاتا ہے۔
یہی فطری قانون اعلیٰ پیمانے پر انسان کے لیے جاری ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ عام درخت اگر مادی وجود ہے تو انسان شعوری وجود ۔ انسان کے لیے موجودہ دنیا میں نہ صرف مادی ترقی کا موقع ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کے لیے ذہنی ترقی (intellectual development) کا موقع
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues