Al-Risala · January 2022 · page 6

خدا کی حکومت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۶

خدا کی حکومت

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر یہ خدا کے منصوبہ تخلیق سے بے خبری کا اعلان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں ہر لمحہ خدا کی حکومت کامل طور پر قائم ہے اور مومن وہ ہے جو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا اعتراف کر کے اس کے آگے اختیارانہ طورپر سرنڈر کر دے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا متقیانہ شہری بنا لے۔ اسی اختیاری اطاعت کا دوسرا نام ایمان ہے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اَفَغَيْرَ دِينِ اللّٰهِ يَبْغُونَ وَلَهُ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَاِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (3:83)۔ یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنا دین ساری کائنات میں بجبر قائم کر رکھا ہے۔ انسان کو یہی دین اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت اختیار کرنا ہے۔ اس اختیار کا تعلق اصلاً فرد سے ہے، نہ کہ مخصوص نظام کے قیام سے۔ اگر بالفرض کسی انسانی نظام کے اوپر اللہ کا دین قاہرانہ طاقت کے ذریعہ نافذ کر دیا جائے تب بھی اللہ کا مطلوب پورا نہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ کے منصوبہ کے مطابق، جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ ہر فرد اپنے آزادانہ اختیار کے تحت اللہ کا مطیع بن جائے۔ قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ حق اور باطل کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ اب جو شخص چاہے اُس کا مومن بنے اور جو شخص چاہے اُس کا انکار کر دے (الکہف، 18:29)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرے، پھر دیکھے کہ کون شخص اپنی آزادی کے ساتھاختیارانہ طور پر اطاعت کا ثبوت دے کر انعام کا مستحق بنتا ہے، اور کون شخص آزادانہ نافرمانی میں مبتلا ہو کر ابدی ناکامی سے دوچار ہوتا ہے۔ خدا کی اطاعت کا جبراً نافذ کیا جانے والا نظام خدا کے تخلیقی منصوبہ کی نفی ہے۔ اس لیے وہ خدا کا مطلوب عمل نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح قاہرانہ اطاعت کا نظام پوری انسانی تاریخ میں کبھی اس دنیا میں قائم نہیں ہوا، اور اُس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خدا کا مطلوب ہی نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page