قرآن فہمی کی کلید
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۹
قرآن فہمی کی کلید
قرآن فہمی کی کلید (key) کیا ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ آپ اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق اس کا جواب تلاش کریں۔ جیسے امریکا کے سابق کمیونسٹ ہاورڈ فاسٹ (Howard Fast) نے کہا تھا کہ میں خود اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق کمیونسٹ بنا۔ مگر اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ خود قرآن سے اس کا جواب معلوم کیا جائے۔ اس اعتبار سے اگر قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن میں اس کا جواب متعین طور پر صرف ایک ملے گا، اور وہ ہے تقویٰ۔ یعنی قرآن کے مطابق ،تقویٰ فہم قرآن کی کلید ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی تین آیتیں یہ ہیں : ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (2:2)۔ یعنی یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اس میں ہدایت ہے اہل تقویٰ کے لیے۔ دوسری آیت یہ ہے : وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ (2:282)۔ یعنی اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو علم دے گا۔ ایک اور آیت یہ ہے : إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا (8:29)۔ یعنی اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تم کو فرقان عطا کرے گا۔
قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے معانی کا ادراک کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر تقویٰ کی صفت پائی جاتی ہو۔ تقویٰ کا مادہ وقی یقی ہے۔ راغب اصفہانی نے اس کا لغوی مطلب اس طرح لکھا ہے : جعل النفس في وقاية مما يخاف (المفردات، راغب الاصفهانی، صفحه (881)۔ یعنی آدمی جس چیز سے ڈرے، اس سے اپنا بچاؤ کرنا۔ تقویٰ آدمی کو محتاط (cautious) انسان بناتا ہے۔ جو آدمی محتاط ذہن رکھتا ہو، وہ کسی معاملے میں غیر ذمہ دارانہ رائے قائم نہیں کر سکتا، وہ رائے بنانے سے پہلے سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گا۔ اس کی یہ محتاط روش اس کو بھٹکنے سے بچا لے گی۔ اس کی روش اس بات کی ضامن بن جائے گی کہ وہ غیر ذمہ دارانہ رائے قائم کرنے سے بچے ۔ وہ جو رائے بھی قائم کرے، ہر پہلو پر بے لاگ انداز میں غور کر کے قائم کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues