حالات یکساں نہیں رہتے
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۲۰
یہ معاملہ پوری طرح فطرت کے قانون کا معاملہ ہے۔ وہ کسی کے لیے اور کسی کی وجہ سے بدلنے والا نہیں۔ ایسی حالت میں کوئی فریق اگر اس کو قبول نہ کرے تو اس کا یہ عدم قبول ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے مجھے پھول کے ساتھ کا نٹا مطلوب نہیں یا کوئی شخص اس بات پر احتجاجی مہم چلائے کہ دنیا کے نظام کو اس طرح بدل جانا چاہیے کہ یہاں صرف میرے لیے موافق موسم ہو، اور جو موسم میرے خلاف ہو وہ کبھی زمین پر نہ آئے۔
عالمی نظام کے بارے میں اس قسم کی شکایت واحتجاج جتنی بے معنی ہے اتنا ہی بے معنی وہ شکایت و احتجا ج بھی ہے جو سیاسی تبدیلی یا قوموں کے عروج و زوال پر کی جائے۔ رمضان کا روزہ رمضان کا روزہ اس کے لیے روزہ ہے جو اس سے پہلے’’ روزہ‘‘ کی حقیقت سے آشنا رہا ہو، اور اس کے بعد بھی روزے کی اسپرٹ اس کے اوپر طاری رہے۔ باقی جو لوگ روزہ کو صرف بھوک پیاس سمجھتے ہیں ان کا روزہ بھی بس تیس دن کی بھوک پیاس ہے، اس سے زیادہ ان کے روزے کی کوئی حقیقت نہیں۔ روزہ دار سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ناجائز چیزوں سے ہمیشہ کے لیے روزہ رکھ لے ۔ رمضان اسی قسم کی روزہ دارانہ زندگی کی ایک خصوصی تیاری ہے۔
اہلِ ایمان کو اس دنیا میں طرح طرح کے’’ روزوں‘‘ کا سامنا کرنا ہے۔ کہیں خواہشات پر کنٹرول کی ضرورت ہے، کہیں ضروریات کو محدود کرنے کا سوال ہے، کہیں آرزوؤں کو قربان کرنے کا مسئلہ ہے۔ غرض اس دنیا کی امتحان گاہ سے صحیح سلامت گزرنے کے لیے بہت سی چیزوں کو چھوڑنا ہے۔ ایک مہینہ کا روزہ اسی بات کی تربیت ہے کہ انسان سال بھر ممنوعات سے کیسے’’ روزہ‘‘ رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ کا مطلب اللہ کے لیے خواہشوں پر روک لگانا ہے۔ خواہ روک لگانے کی فہرست کھانے پینے جیسی چیزوں تک پہنچ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues