دور رس کلام
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۲۳
دور رس کلام
قرآن کی سورہ النساء میںکامیاب کلام کا ذکر کیا گیا ہے۔ پیغمبر سے خطاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ بظاہر انکار کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں ان کو کس طرح اقرار کی روش پر لایا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيغاً (4:63)۔ یعنی ، پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں تک پہنچنے والی ہو۔ قول بلیغ سے مراد وہ کلام ہے، جو آدمی کے ذہن کو ایڈریس (address) کرنے والا ہو۔ جو آدمی کو نئی سوچ میں ڈال دے۔ اس کلام سے انسان کو ٹیک اوے (takeaway) ملے۔ اس سے انسان کی غفلت ٹوٹے ۔ اس کے اندر نیا تفکیری عمل (thinking process) جاری ہوجائے۔ وہ چیزوں پر از سر نو غور کرنے لگے۔ اس کے اندر محاسبہ خویش کا مزاج پیدا ہوجائے۔ اس کا رائے قائم کرنے کا طریقہ بدل جائے ، وہ ایک سنثیر (sincere) انسان بن جائے۔ جب کوئی شخص کسی بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس کا یہ انکار سادہ طور پر محض انکار نہیں ہوتا ، بلکہ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ذہنی کنڈیشننگ کی بنا پر وہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ لمبی مدت تک ایک خاص فکری ماحول میں رہنے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو ایک خاص زاویہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس لیے وہ چیزوں کو کسی اور زاویہ سے دیکھ نہیں پاتا۔ اکثر حالات میں کسی انسان کا انکار اس کی فکری مجبوری کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ دانستہ سرکشی کی بنا پر۔ ایسی حالت میں ضرورت ہوتی ہے کہ صبر آزما کوشش کے ذریعہ اس کے اندر نئی سوچ لائی جائے۔ اس کے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹادیا جائے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کی منفی روش کو نظر انداز کرتے ہوئے خیر خواہانہ طور پر ان کو سمجھانے بجھانے کا طریقہ جاری رکھے ۔ وہ ان کے ذہن پر پڑے ہوئے پردوں کو اس طرح ہٹائے کہ سچائی کی بات کسی رکاوٹ کے بغیر اس کے ذہن تک پہنچ جائے۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے لیے سچائی کا اعتراف اسی طرح آسان بن جائے گا جس طرح کسی باپ کے لیے اپنے بیٹے کو پہچاننا آسان ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues