صلح بہتر ہے
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۲۶
صلح بہتر ہے
سورہ النساء میں زندگی کا ایک اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصَّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ (4:128)۔ یعنی، اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے۔ اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ قرآن کی اس آیت میں صلح کو بہتر بتایا گیا ہے۔ یہ بات بظاہر میاں بیوی کی نزاع کے بارے میں ہے مگر اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ صلح ایک اعلیٰ تدبیر ہے جو ہر نزاعی مسئلہ کا واحد کامیاب حل ہے، خواہ وہ نزاعی مسئلہ انفرادی ہو یا اجتماعی، خواہ وہ قومی ہو یا بین اقوامی۔ جب بھی دو آدمیوں یا دو فریقوں کے درمیان کوئی نزاع پیش آتی ہے تو اس کے حل تک نہ پہنچنے کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ حرص ہے۔ یعنی عملاً جو کچھ مل رہا ہے اس پر راضی نہ ہونا اور اس سے زیادہ چاہنا۔ یہی حرص یا زیادہ چاہنے کا مزاج نزاع کو ختم نہیں ہونے دیتا۔ وہ آخر کار بڑھ کر باقاعدہ ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صلح یہ ہے کہ بروقت جو کچھ عملی طور پر مل رہا ہے اس پر راضی ہو کر نزاع کو ختم کر دینا۔ جب ایک شخص صلح کے اس طریقہ کو اختیار کرے تو اپنے آپ نزاع کی حالت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ نوبت ہی نہیں آتی کہ نزاع بڑھ کر ٹکراؤ بن جائے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو حرص کا طریقہ ہمیشہ مزید نقصان کا سبب بنتا ہے، اور صلح کا طریقہ کام کے مواقع کھولتا ہے جس کو اوویل (avail) کر کے مزید ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔
صلح کوئی سادہ بات نہیں۔ صلح اپنے آپ میں سب سے بڑا عمل ہے۔ صلح بظاہر میدانِ مقابلہ سے واپسی ہے۔ مگر عملاً وہ اقدام کی سب سے بڑی تدبیر ہے۔ جب کہ کوئی فرد یا گروہ صلح کر لے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے لیے ایک ایسا ماحول پالیا جس کے اندر وہ ٹکراؤ میں وقت ضائع کیے بغیر اپنے پورے وقت اور طاقت کو اپنے تعمیری منصوبہ میں لگائے۔ غیر مصالحانہ طریقہ، زندگی کے سفر کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس، مصالحانہ طریقہ زندگی کے سفر کو روکے بغیر دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری کر دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues