Al-Risala · March 2022 · page 36

فضول خرچی نہیں

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۳۶

فضول خرچی نہیں

قرآن میں دو آیتیں ان الفاظ میں آئی ہیں: وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا - إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (27-17: 26)۔ یعنی، اور رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین کو اور مسافر کو اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

یہاں جو حکم دیا گیا ہے اس کو منی مینجمنٹ (money management) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی اپنی کمائی کو حقیقی ضرورت کے مطابق با اصول انداز میں خرچ کرنا اور بے فائدہ کاموں میں اپنا پیسہ خرچ کرنے سے بچنا۔ فضول خرچی کے معاملہ میں قرآن اتنا زیادہ سنجیدہ ہے کہ اس نے فضول خرچی کو تبذیر (پیسہ کو غیر ذمہ دارانہ طور پر بکھیرنا) کہا ہے ، اور اسے ایک شیطانی فعل قرار دیا ہے ۔ پیسہ کمانا جس طرح ایک کام ہے اسی طرح پیسہ کو خرچ کرنا بھی ایک کام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے پیسے کو درست طور پر خرچ کرے ۔ وہ اپنے پیسہ کو ضائع نہ کرے ۔ پیسہ کو درست طور پر خرچ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خرچ کی ضروری مد (necessary expense) اور غیر ضروری مد (unnecessary expense) میں فرق کیا جائے۔ پیسہ کو صرف ضروری مد میں خرچ کیا جائے اور غیر ضروری مدوں میں پیسہ کو خرچ کرنے سے مکمل طور پر پر ہیز کیا جائے ۔

قرآن (4:5) میں مال کو قیام کہا گیا ہے ۔ یعنی دنیا میں انسان کے قیام و بقا کا سامان ۔ حقیقت یہ ہے کہ مال زندگی کی تعمیر کے سلسلہ میں بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مال ہر انسان کے پاس خدا کی ایک امانت ہے ۔ پیسہ کسی کو اس لیے ملتا ہے کہ وہ اس سے اپنی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرے اور جو پیسہ اپنی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو اس کو سماج کی تعمیر کے لیے خرچ کرے ۔ یہی خرچ کی صحیح صورت ہے اور اسی میں فرداور سماج کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے ۔ جولوگ مال کو غیر ذمہ دارانہ طور پر خرچ کریں وہ بیک وقت دو سنگین برائیوں میں مبتلا ہیں ۔ ایک اعتبار سے وہ ایک مقدس امانت میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور دوسرے اعتبار سے وہ خود اپنی ذاتی تعمیر کے معاملہ میں بدترین ناعاقبت اندیشی کا شکار ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page