دعوت یعنی انسانی خیر خواہی
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۴۳
دعوت یعنی انسانی خیر خواہی
مئی 2004 میں عرب امارات کے لیے میرا ایک سفر ہوا تھا۔ وہاں میں نے دبئی کا انگریزی اخبار، خلیج ٹائمس کا شمارہ 6 مئی 2004 دیکھا۔ اس میں ایک خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ شارجہ کی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جو ماحولیات کو بگڑنے سے بچانے والے ہوں۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا— شارجہ ایکو فرینڈلی پروجیکٹ چلانے والا ہے:
Sharjah to launch eco-friendly project
آج کل ایکو فرینڈلی منصوبوں کا بہت چرچا ہے۔ خود مسلم ملکوں میں بھی اس کی کافی دھوم ہے۔ میں نے سوچا کہ منصوبہ تخلیق کی نسبت دیکھا جائے تو ایک اور نہایت ضروری کام یہ ہے کہ مدعو فرینڈلی منصوبے جاری کیے جائیں۔ مگر ساری دنیا میں مسلمان اس قسم کی بات سوچنے کے لیے تیار نہیں۔ مسلمانوں نے برعکس طور پر ایسے ہنگامے جاری کر رکھے ہیں جو مدعو کو دشمن بنائے ہوئے ہیں۔ مگر مدعو کو دوست بنانے کی شعوری کوشش پوری مسلم دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ مدعو فرینڈلی منصوبہ نہ چلانے کی صورت میں یہ شدید تر اندیشہ موجود ہے کہ ان کی آخرت خطرے میں پڑ جائے۔ اسلامک ورک حقیقۃً وہ ہے جو دعوہ ورک ہو۔ یعنی انسانوں کو خدا کے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کرنا۔ دعوہ ورک کوئی سادہ چیز نہیں۔ دعوت دراصل انسان سے محبت اور خیر خواہی کا اظہار ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرتے ہیں، وہ ان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ اس قابل ہی نہیں کہ وہ دوسری قوموں کے درمیان دعوت کا کام کر سکیں۔ دعوہ ورک کے لیے کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ اس میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو کا مکمل طور پر خیر خواہ ہو۔ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کرے۔ داعی اور مدعو کا رشتہ اسی قسم کا ایک رشتہ ہے جیسا کہ تاجر اور کسٹمر کا ہوتا ہے۔ ہر تاجر جانتا ہے کہ اس کو اپنے کسٹمر کے ساتھ آخری حد تک خیر خواہی کا معاملہ کرنا ہے۔ داعی کا فارمولا تاجر کی طرح یہ ہونا چاہیے: We are always Mad‘u friendly
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues