Al-Risala · May 2023 · page 44

تاریخ سے سبق

الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۴۴

تاریخ سے سبق

سبق کا سب سے بڑا ذریعہ تاریخ ہے۔ مگر تاریخ سے سبق لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی منفی واقعات سے مثبت سبق لینے کا آرٹ جانتا ہو۔ تاریخ منفی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے تاریخ کے معاملہ میں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ پازیٹیو سے پازیٹیو سبق لینے کا موقع ملے۔ تاریخ میں ہمیشہ یہ کرنا پڑتا ہے کہ منفی سے پازیٹیو سبق حاصل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگ ایسا نہیں کر پاتے۔ اس لیے تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ہیں جب کہ کسی نے تاریخ سے کوئی بڑا سبق لیا ہو۔ تاہم تاریخ میں کچھ استثنائی واقعات ہیں۔ مثلاً مغرب کی صلیبی قوموں کی زندگی میں یہ انوکھا واقعہ ملتا ہے کہ انھوں نے 200 سالہ صلیبی جنگوں کے دوران ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کا تجربہ کیا۔ لیکن اس کے بعد ان كےاندرری پلاننگ آئی۔ انھوں نے اپنی کوششوں کا میدان جنگ کے بجائے سائنس کے میدان کو بنا لیا۔ پھر دنیا نے یہ حیرت انگیز واقعہ دیکھا کہ صلیبی جنگوں کی ناکامی کے بعد انھوں نے ویسٹرن سولائزیشن کا مینار کھڑا کر لیا۔ دوسری مثال جرمنی کی ہے۔ جرمنی کو دوسری عالمی جنگ میں ٹوٹل شکست ہوئی ۔ یہاں تک کہ ان کے ملک کا تہائی حصہ کٹ کر الگ ہو گیا۔ مگر جرمنی کے لیڈروں نے دوسرے عالمی جنگ کے بعد ایک انوکھی پلاننگ (planning on the remaining part of land) کی، اور دنیا نے دیکھا کہ جرمنی اپنے کھوئے ہوئے ملک کو دوبارہ حاصل کر لیا۔ جدید صنعت کے میدان میں اتنی زیادہ ترقی کی کہ پہلے سے بھی زیادہ ترقی کا درجہ حاصل کر لیا۔

یہ طریقہ جس کے ذریعے ان قوموں نے کامیابی حاصل کی۔ اس کو ایک لفظ میں ری پلاننگ کہا جا سکتا ہے۔ جب بھی آپ کو آپ کے پہلے منصوبے میں ناکامی ہو جائے تو کبھی مایوسی کا راستہ مت اختیار کیجیے، بلکہ ایک تجارتی فارمولے کے مطابق ، ایسا کیجیے:

think, think, there must be better way

یہ فارمولا عملاً یہی ہے کہ آپ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کیجیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2023 All issues

Printed page