اپنی سوچ درست کیجیے
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۴۹
منفی نتیجے تک پہنچتا ہے۔ اس اصول کا تعلق جس طرح زندگی کے دوسرے معاملات سے ہے، اسی طرح اس کا تعلق ازدواجی زندگی سے بھی ہے۔ اس اصول کو جاننا بلا شبہ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی کلید ہے۔
ایک واقعہ
ستمبر 1992ء میں میرا ایک سفر لندن کے لیے ہوا۔ اس سفر میں لندن میں میرا قیام پروفیسر انیس قاری کی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں 26 ستمبر کو جناب جاوید حسن صاحب (Tel.5581523) سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ میں ایک یہودی فرم میں کام کرتا ہوں ۔ وہاں ایک کٹر قسم کا یہودی تھا۔ میں جب اس کے پاس سے گزرتا تو ہمیشہ اس کو گڈ مارننگ کہتا۔ مگر وہ مجھ کو جواب نہ دیتا، بلکہ منہ پھیر لیتا۔ آخر کار ایک روز اس نے کہہ دیا کہ تم کیوں مجھ کو گڈ مارننگ کہتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں:
"Why you say good morning to me. You know, I hate you". اس کے جواب میں جاوید صاحب نے کہا کہ آپ کا شکریہ۔ مگر میں تو آپ سے نفرت نہیں کرتا: But I do not hate you یہ جواب سن کر یہودی تعجب میں پڑ گیا۔ اس نے کہا میں تو سمجھتا تھا کہ سارے مسلمان یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور تم ان سے الگ نہیں ہو، کیوں کہ میں ایک یہودی ہوں ۔ اس دن کی گفتگو کے بعد وہ کافی نرم پڑ گیا۔ یہاں تک کہ چند دن کے بعد وہ نارمل ہو گیا۔ اس کا حال یہ ہو گیا کہ جاوید صاحب کو دیکھتا تو دور ہی سے ہیلو ہیلو کرنے لگتا۔ لوگوں کو تعجب تھا کہ اتنا کٹر یہودی ایک مسلمان سے اتنا قریب کیسے ہو گیا۔ اس کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ: یک طرفہ حسن اخلاق سے۔ زیر نظر شمارہ، نئی کتاب، تعمیر شخصیت کے منتخب مضامین پر مشتمل ہے، اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس QR code کو اسکین کریں :