وقت ضائع نہ کیجیے
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۹
وقت ضائع نہ کیجیے
انسان دنیا میں کس لیے آیا ہے، وہ اس لیے نہیں آیا ہے کہ یہاں اپنی پسند کی جنت قائم کرے ۔ وہ یہاں صرف اس لیے آیا ہے کہ اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنائے (البقرۃ ، 2:38 ) - انسان کو موجودہ دنیا میں صرف چند سال کی عمر ملی ہے ۔ چند سال کی اس مدت میں کوئی دوسرا کام کرنا ، اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے ضائع کر لینا ہے ۔ صحیح استعمال صرف وہ ہے جو موت کے بعد کام آئے۔ موت کے بعد صرف وہ انسان کامیاب قرار دیا جائے گا جس نے موت سے پہلے کی زندگی میں اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنایا ہو۔
خالق کی پسند کیا ہے ، زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی فطری نشانیاں اس کا زندہ نمونہ ہیں ( آل عمران ، 3:190 ) ۔ فطرت کی وادیوں میں جاری چشمے خالق کی پسند کا اعلان کر رہے ہیں ۔ ہرے بھرے درخت اپنی خاموش زبان میں خالق کی پسند کو بتا رہے ہیں ، یہاں کی فضاؤں میں اڑتے ہوئے پرندے خالق کی پسند کا چرچا کر رہے ہیں ، یہاں کے خوب صورت پہاڑوں میں خالق کی پسند کا نغمہ گونج رہا ہے ۔ یہاں کی مسحور کن فضاؤں میں ہر طرف خالق کی پسند کا جلوہ دکھائی دیتا ہے ۔ فطرت کے ماحول میں انسان خالق کے پڑوس کا تجربہ کرتا ہے ۔ یہ گویا فطرت کی زبان میں خالق کا کلام ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والے ہر انسان کا پہلا فرض ہے کہ وہ قرآن کی روشنی میں خالق کی اس زندہ کتاب کو پڑھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے ۔ جو لوگ یہ کام نہ کریں ، اُن کے لیے موت کے بعد صرف یہ انجام سامنے آئے گا کہ وہ ابد تک حسرت میں جیتے رہیں ۔ اُن کے حصے میں صرف یہ مایوسانہ سوچ آئے کہ اُن کا کیس صرف مواقع کے استعمال سے محرومی کا کیس تھا: Mine was a case of missed opportunities. اس دنیا میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آدمی یہاں اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت بنائے ، تاکہ آخرت میں اس کو اللہ کی ابدی جنت میں داخلہ ملے ۔ موجودہ دنیا جنت کی تعمیر کی جگہ نہیں ہے ، بلکہ وہ جنتی شخصیت کی تعمیر کی جگہ ہے ۔ اس دنیا میں جنتی شخصیت کی تعمیر ہی وہ کام ہے جس میں انسان کی حقیقی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues