Al-Risala · July 2023 · page 43

محاسبۂ نفس کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۳، صفحہ ۴۳

محاسبۂ نفس کیا ہے

میمون بن مہران تابعی (وفات 117ھ) کا قول ہے: لَا يَكُونُ الرَّجُلُ تَقِيًّا حَتَّى يَكُونَ لِنَفْسِهِ أَشَدَّ مُحَاسَبَةً مِنَ الشَّرِيكِ لِشَرِيكِهِ (محاسبة النفس لابن ابی الدنیا: 7)۔ یعنی کوئی انسان متقی نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا اُس سے زیادہ شدت کے ساتھ محاسبہ کرنے والا نہ ہو جائے، جتنا کہ کوئی انسان اپنے بزنس پارٹنر کا محاسبہ کرتا ہے۔

محاسبہ کیا ہے۔ مثلاً جب بھی کسی کو ایسا لگے کہ اس کے اندر منفی احساس (negativity) کی زیادتی ہو رہی ہے، اُس کی ربانیت (spirituality) میں کمی محسوس ہو رہی ہے یا اس کے اندر خدا سے تعلق (connection) کا احساس نہیں ہو رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ فوراً اپنا جائزہ لے۔ آخر اس سے کیا کمی ہو گئی ہے، کیا غلطی ہو گئی ہے۔ کیا بات ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے کنکشن قائم نہیں ہو پا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے کنکشن فرشتوں کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔ ذرا بھی آدمی اگر نگٹو ہو جائے تو فرشتے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابو بکر کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ایک آدمی آیا اور ابو بکر کو برا بھلا کہنے لگا۔ جب وہ برا بھلا کہہ رہا تھا تو آپ مسکرا رہے تھے۔ جب وہ بہت زیادہ برا بھلا کہنے لگا تو ابو بکر نے بھی اس کو کچھ جواب دے دیا۔ رسول اللہ نے جب ابو بکر کاری ایکشن دیکھا تو آپ وہاں سے جانے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو بکر آپ کی طرف بڑھے، اور پوچھا: اے خدا کے رسول، جب اس آدمی نے مجھے برا بھلا کہا تو آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ لیکن جب میں نے اس کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو گئے اور وہاں سے اٹھ کر جانے لگے۔ ایسا کیوں؟ آپ نے کہا، جب وہ برا بھلا کہہ رہا تھا تو فرشتے اس کا جواب دے رہے تھے۔ لیکن جب تم نے اس کا جواب دیا تو فرشتے وہاں سے چلے گئے، اور شیطان وہاں آگیا۔ اور جہاں شیطان ہو، وہاں پر میں نہیں بیٹھ سکتا (مسند احمد، حدیث نمبر 9624)۔

جب بھی آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو تو فوراً توبہ کیجیے۔ فوراً اپنی اصلاح کیجیے۔ ان شاء اللہ، دوبارہ پھر خدا سے کنکشن قائم ہو جائے گا۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2023 All issues

Printed page