Al-Risala · September 2023 · page 4

عظیم معافی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴

عظیم معافی

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ اس آیت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ قرآن کی سب سے زیادہ پرامید آیت ہے ہے(الاتقان للسيوطی، جلد 6، صفحہ 2161)۔ علی بن ابی طالب کا قول ہے : مَا فِي الْقُرْآنِ أوسع آية من هذه (تفسیر الدر المنثور، جلد 7، صفحہ 238)۔ یعنی قرآن میں اس سے زیادہ وسعت والی آیت نہیں۔ عبداللہ بن مسعود کا قول ہے : أَکْبَرُ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَجًا (مصنف عبد الرزاق، اثر نمبر 6002)۔ یعنی قرآن میں سب سے کشادگی والی آیت۔ قرآن کی یہ آیت مجھ کو بے حد عجیب معلوم ہوتی ہے۔ انسان کے تمام گناہوں کو بخش دینا بلاشبہ اللہ کی اتنی بڑی عنایت ہے کہ اس سے بڑی کوئی عنایت نہیں ہو سکتی۔ میں اس آیت پر سوچ رہا تھا۔ میرے دل نے کہا کہ شاید ایسا ہوا کہ اللہ کی رحمت نے چاہا کہ وہ اس انسان کو اپنی سب سے بڑی عنایت دے، جس کو اس نے، قرآن کے مطابق، اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے (38:75)۔ مگر اللہ نے دیکھا کہ انسان کا کوئی عمل ایسا نہیں، جس کو وہ اس عظیم عنایت کا ریزن بنائے۔ تو اللہ نے یہ کیا کہ اس کو یک طرفہ طور پر اپنی رحمت کے خانے میں ڈال دیا، اور کہا کہ میں اپنی رحمت سے انسان کے لیے اس بڑی عنایت کا اعلان کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ "بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ " انسان اپنے کسی عمل کی بنیاد پر اتنی بڑی عنایت کا مستحق نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کے تمام گناہ بخش دیے جائیں۔ تو گویا اللہ نے کہا کہ میں انسان کے لیے اپنی خصوصی رحمت اور خصوصی فضل کا اعلان کرتا ہوں، یعنی میں انسان کے تمام گناہوں کو بخش دوں گا۔ اس اعلان کے ذریعہ اللہ تعالی یہ کہہ رہا ہے کہ اے انسان! تو نے خواہ کوئی بھی غلطی کی ہو، تو میرے پاس مغفرت کا طالب بن کر آجا، میں اپنی رحمت خاص سے تیرے سب گناہوں کو بخش دوں گا۔ اور میں بخشش کو تجھے بطور تحفہ دے دوں گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2023 All issues

Printed page