Al-Risala · January 2023 · page 4

حب شدید

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۴

حب شدید

محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ جائز حدود میں آدمی کسی بھی چیز سے محبت کر سکتا ہے۔ مگر حبِ شدید صرف ایک اللہ سے ہونا چاہیے، یعنی شدید قلبی تعلق۔ صرف اللہ کو یہ حق ہے کہ انسان اپنے جذبات محبت کو سب سے زیادہ اس سے وابستہ کرے، اس کی قلبی شیفتگی (strong affection) کا سب سے بڑا مرجع خداوندِ جلال ہو۔ یہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ ٱللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (2:165)۔ یعنی، اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ غیر اللہ کے ساتھ حبِ شدید کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً غیر حقیقی خداؤں کے ساتھ بڑھا ہوا قلبی لگاؤ۔ اپنے اکابر سے بہت زیادہ عقیدت، قوم کے ساتھ غیر معمولی محبت، وغیرہ۔ آدمی کو جس چیز سے حبِ شدید ہو اسی کی یاد میں وہ جینے لگتا ہے، اسی کا تذکرہ اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری چیزیں رسمی تعلق کے خانہ میں چلی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ ان کے اندر اللہ کے لیے حبِ شدید نہیں۔ ذاتی مفاد، سیاسی اقتدار، قومی عزت، تاریخی عظمت، وغیرہ ان کے لیے عملاً حبِ شدید کا موضوع بنی ہوئی ہیں، خدا ان کے لیے حبِ شدید کا موضوع نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ قسم کی چیزوں پر ان کے درمیان بڑی بڑی تحریکیں اٹھتی ہیں۔ مگر محبتِ خداوندی کی بنیاد پر کوئی تحریک ان کے درمیان نہیں اٹھی۔ موجودہ زمانے میں جو علومِ انسانی ظاہر ہوئے ان میں خدا کے وجود کو یکسر حذف کر دیا گیا مگر مسلم دنیا میں کوئی بھی شخص نظر نہیں آتا جو اس پر تڑپے اور علومِ جدیدہ سے واقفیت حاصل کر کے خدا کے وجود کو علمی حیثیت سے ثابت شدہ بنانے کے لیے محنت کرے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اقوام عالم کے اوپر ان کے فکری مستوىً (intellectual level) کے مطابق خدا کے دین کی شہادت دی جائے، مگر ساری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی قابلِ ذکر شخص نہیں جو اس کے لیے بے چین ہو اور اس کو جاری کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page