Al-Risala · November 2023 · page 4

یکم جنوری

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴

یکم جنوری

عیسوی کیلنڈر کے مطابق یکم جنوری کو نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔ چنانچہ پوری دنیا میں یکم جنوری کو سال نو (New Year's Day) کا جشن منایا جاتا ہے۔ نئے سال کو اس امید کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ آنے والا سال بہتر طور پر گزرے گا۔ مگر یہ مقصد اسی شخص کو حاصل ہو سکتا ہے، جو اپنا محاسبہ کرتا رہے، نہ کہ ایسے شخص کو جو غفلت کی زندگی گزارے۔

قانون فطرت کے مطابق، ہر نیا دن اگلے دن گزرا ہوا دن بن جاتا ہے، اور انسان کی عمر میں سے ایک دن کم ہو جاتا ہے۔ مثلاً یکم جنوری 1997 کے دن 31 دسمبر 1996 پرانا دن تھا۔ ایک دن کے بعد یکم جنوری 1997 بھی لازمی طور پر تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ اس دنیا میں ہر چیز نئی سے پرانی ہوتی رہتی ہے۔ بہ حال آخر کار ماضی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کو واپس لانا ممکن نہیں، لیکن اس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا یقینی طور پر ممکن ہے۔ یہ فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔

یہ موجودہ دنیا کا قانون ہے۔ اس سلسلہ میں ہر عورت اور مرد کا پہلا فرض ہے کہ وہ اپنا محاسبہ (introspection) کرے۔ کامیاب انسان وہ ہے، جو بے لاگ انداز میں بار بار اپنا جائزہ لیتا رہے۔ یعنی یہ دیکھنا کہ پچھلے سال ہم نے کیا کھویا، اور کیا پایا۔ تا کہ وہ نئے سال کے لیے زیادہ بہتر منصوبہ بندی کر سکے۔ یہ کام ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ کوئی دوسرا انسان آپ کو صرف مشورہ دے سکتا ہے، وہ آپ کے ذاتی محاسبہ کا عمل انجام نہیں دے سکتا۔

ڈائری اس معاملہ میں مددگار عنصر (supporting element) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو شخص پورے سال اپنی ڈائری لکھے، وہ اپنی ذات کے لیے پوری طرح محاسبہ کا فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب عام طور پر اپنے ملاقاتیوں کو ڈائری لکھنے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ اس کا ریزن وہ یہ بتاتے تھے کہ اس سے آپ کو اپنا انٹلکچول ڈیولپمنٹ کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈائری حقیقۃً ایک شخص کی تجرباتی زندگی کا ریکارڈ ہے۔ اگر انسان ڈائری لکھنے کا سلسلہ شروع کرے تو یہ ڈائری ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس کے حال میں ذہنی ارتقا کے لیے گائڈ بک ثابت ہوگی۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page