مقابلے کی دنیا
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۴۲
مقابلے کی دنیا
ایک ہندستانی نوجوان بزنس کے لیے باہر کے ایک ملک میں گئے۔ یہ بیرون ملک کے لیے ان کا پہلا سفر تھا۔ دو ہفتے کے بعد وہ اپنے سفر سے واپس آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اس بیرونی سفر میں سب سے بڑا تجربہ کیا حاصل کیا۔ انھوں نے ایک لمحہ سوچا اور اس کے بعد کہا۔ یہ کہ آج کی دنیا میں انا کے لیے کوئی جگہ نہیں:
Ego has no place in today's world.
یہ بے حد اہم بات ہے۔ ایک آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ماحول میں لاڈ پیار (pampering) کے ماحول میں رہتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ گھر کے اندر اس کی شخصیت ہی مرکزی شخصیت ہے۔ دوسرے لوگ وہی کرتے ہیں جو وہ چاہے۔ گھر کے ماحول میں اس کی انا (ego) ہی مرکزی شخصیت کا درجہ رکھتی ہے۔
لیکن جب وہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بالکل مختلف ماحول ہے۔ یہاں مکمل طور پر مقابلہ اور مسابقت (competition) کا ماحول ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے، وہ اُس کے ذاتی جوہر (merit) کی بنیاد پر ملتا ہے۔ انسان کے ذاتی جوہر کے سوا، کسی اور چیز کی یہاں کوئی قیمت نہیں۔ باہر کی دنیا مکمل طور پر اس اصول پر قائم ہے— مقابلہ کر کے جیو، یا مر جاؤ: Compete, or perish یہ زندگی کی ایک سنگین حقیقت ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد کو اس سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ماں باپ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس امتحان کے لیے تیار کریں۔ اس معاملے میں کوئی بھی دوسری چیز ذاتی تیاری (self-preparation) کا بدل نہیں بن سکتی۔ ذاتی تیاری ہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو مقابلے کی اس دنیا میں کامیاب بناسکتی ہے۔ موجودہ دنیا حقائق کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں کسی غیر حقیقی بنیاد پر کامیابی کا حصول اس دنیا میں ممکن نہیں۔ والدین کی ذمہ داری اولاد کی تربیت نہ صرف افراد سازی کا عمل ہے، بلکہ یہ سماج کی ترقی کا سب سے بنیادی قدم
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues