دریافت، دریافت، دریافت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۴۴
بڑے پیمانے پر معرفت (realization) اور روحانیت (spirituality) کے معاملے پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ روحانیت اور معرفت کوئی جامد چیز نہیں۔ وہ درخت کی مانند ایک مسلسل ترقی پذیر چیز (growing entity) ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں لامحدود صلاحیت موجود ہے۔ انسانی دماغ کے باہر جو حقائق کی دنیا (universe of facts) ہے، وہ بھی لامحدود ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنے ذہن کو مسلسل طور پر بیدار رکھے اور یکسوئی کے ساتھ غور و فکر کرتا رہے، وہ ہر دن بلکہ ہر لمحہ نئی حقیقتوں کو دریافت کرتا رہے گا۔ اس کے لیے دریافتوں کا خزانہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ جس طرح مادی خوراک جسم کی غذا ہے، اُسی طرح روحانی دریافتیں معرفت کی غذا ہیں۔ مسلسل مادی خوراک جسم کی زندگی کی ضمانت ہے۔ اس طرح مسلسل روحانی دریافتیں کسی انسان کے لیے معرفت اور روحانیت کی زندگی اور ارتقا کی ضمانت ہیں۔ یہ دریافت گویا کہ ایک فکری پراسس (intellectual process) ہے۔ اس پراسس کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کی شرطیں صرف دو ہیں ۔ غور و فکر کرنا، اور اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچانا۔ جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں پائی جائیں، وہ ضرور دریافتوں والا انسان بن جائے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی چیز اس کو نئی نئی دریافتوں تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔
دریافت روح کی زندگی ہے، دریافت ذہن کے لیے ذریعہ ارتقا ہے۔ دریافت کسی انسان کو مکمل انسان بناتی ہے۔ دریافت کے بغیر کوئی انسان ایسا ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ مسئلہ نہیں حل ایک بار کا واقعہ ہے۔ ایک سفر میں میں ایک فیکٹری کو دیکھنے کے لیے گیا۔ میں اس کے مینیجر کے آفس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس اثنا میں فیکٹری کا ایک کارکن کمرے میں داخل ہوا۔ اُس نے کہا: سر، پانی کی سپلائی رک گئی ہے۔ ہمارا کام بند ہو گیا ہے۔ مینیجر نے یہ بات سنی تو اس نے تقریباً چیخ کر کہا: پرابلم مت لاؤ، سلوشن لاؤ۔ کارکن واپس گیا اور کچھ دیر کے بعد دوبارہ واپس آیا۔ اس نے کہا کہ میں نے ساتھیوں سے مشورہ کیا، سب کا کہنا یہ ہے کہ کارپوریشن کے واٹر سپلائی کے بجائے، یہاں بورنگ کر کے خود اپنے پانی کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس کے بعد مینیجر نے ٹیلی فون اٹھایا اور کسی ٹھیکے دار سے کہا کہ ہماری فیکٹری میں بورنگ کی ضرورت ہے۔ آپ آج ہی اُس کا کام شروع
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues