با اصول زندگی
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۴۷
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر دعوتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ نہ کریں تو اُنھیں ذاتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کرنا پڑے گا۔ گویا کہ اگر وہ دوسروں کے درمیان مخلص بن کر نہ رہیں تو اُنھیں دوسروں کے درمیان منافق بن کر رہنا ہوگا، اور بلاشبہ منافقانہ زندگی سے زیادہ بُری کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ مسلمان کی اصل حیثیت اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے، مسلمان داعی ہیں اور دوسری تمام اقوام اُن کی مدعو، یعنی مسلمان دینِ خداوندی کے امین ہیں اور اُن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس امانت کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ اسی فرض کی ادائیگی میں اُن کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک خدائی ذمے داری کا معاملہ ہے۔ مسلمان اپنی اس ذمے داری کو صرف اُس وقت ادا کر سکتے ہیں، جب کہ وہ اس ذمے داری کے تقاضوں کو سمجھیں اور اُس کو اپنی زندگی میں بھر پور طور پر استعمال کریں۔ داعی کی ذمے داری صرف داعیانہ کردار کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے، داعیانہ کردار کے بغیر دعوتی ذمے داری کو ادا کرنا اُسی طرح ناممکن ہے جس طرح کسی عورت کے لیے مادرانہ شفقت کے بغیر ماں کی ذمے داری کو ادا کرنا۔
قرآن کے الفاظ میں، دعوت کا آغازنُصح (الاعراف، 68) سے ہوتا ہے، یعنی مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی۔ دعوتی اخلاق کا تقاضا ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لیے صرف مثبت جذبات ہوں، منفی جذبات سے اُس کا دل مکمل طور پر خالی رہے۔ اسی کا نام یک طرفہ خیر خواہی ہے۔ اس قسم کی یک طرفہ خیر خواہی کے بغیر داعی اپنی داعیانہ ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتا۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے، اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آتے رہتے ہیں، ایک کی کوئی بات دوسرے کے لیے اشتعال انگیزی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام کو بدلنا ہر گز کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں، داعی کے اندر اپنے مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی کا جذبہ صرف اُس وقت برقرار رہ سکتا ہے، جب کہ وہ یک طرفہ اخلاقیات کے اصول پر قائم ہو۔ لوگوں کے ساتھ اِس کی روش دوسروں کے عمل کے زیر اثر نہ بنے، بلکہ وہ اُس کے اپنے سوچے سمجھے اصول کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues