صبر دین کا خلاصہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۳
صبر دین کا خلاصہ
صبر دین کا خلاصہ ہے۔ صبر ہر قسم کی نیکیوں کی بنیاد ہے۔ صبر دنیا میں کامیابی کا زینہ ہے اور آخرت میں وہ جنت کی کنجی ہے۔ قرآن میں صبر کے بارے میں ایک ایسی آیت ہے جو کسی بھی دوسرے عمل کے بارے میں نہیں۔ فرمایا کہ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا (10: 39)۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1469)۔ یعنی، صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا کوئی عطیہ انسان کو نہیں دیا گیا۔ ابن حجر العسقلانی نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: الصَّبْرُ جَامِع لمكَارمِ الْأَخْلَاق (فتح الباری لابن حجر، جلد 11، صفحہ 305)۔ یعنی، صبر تمام اعلیٰ اخلاقیات کا جامع ہے۔
احادیث و آثار میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ صبر کی حیثیت ایمان میں وہی ہے جو حیثیت انسانی جسم میں سر کی ہے: الصَّبْرُ مِنَ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ (الزہد لوکیع بن الجراح، حدیث نمبر 199)۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ: عَاقِبَة الصَّبْرِ الْجَمِيلِ جَمِيلَة (صید الخاطر، جلد 1، صفحہ 402)۔ یعنی، صبر جمیل کا انجام بھی جمیل ہے۔ ابن منظور نے لکھا ہے کہ: أَصْل الصَّبْرِ الحَبْس، والصَّبْرُ نقيض الجَزَع (لسان العرب، جلد 4، صفحہ 438)۔ یعنی، صبر کی اصل رُکنا ہے، صبر بے چین اور بے برداشت ہونے کا الٹا ہے۔ راغب الاصفہانی نے لکھا ہے کہ: الصبر الإمساك والصبر حبس النفس على ما يقتضيه العقل والشرع (المفردات الراغب الاصفہانی، جلد 1، صفحہ 273)۔ یعنی، صبر کی حقیقت امساک (پوری قوت سے کنٹرول کرنا) ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی عقل اور شریعت کے تقاضے کے مطابق اپنے آپ کو روکے۔ صبر کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ موجودہ دنیا کی صورت حال ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اسی امتحان یا آزمائش کی مصلحت کی بنا پر یہاں ہر شخص کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ یہ انسانی آزادی خود خدا کے منصوبہ کے تحت ہے، اس لیے کوئی بھی اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔