Al-Risala · May 2023 · page 26

تواصی بالحق، تواصی بالصبر

الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۶

ظاہری بصارت کے ساتھ، داخلی بصیرت کی روشنی حاصل ہوگئی۔ آدمی کو اپنی ذہنی تک و دو کا مرکز حاصل ہوگیا۔ آدمی کے اندر اُس ہستی کا شعور پیدا ہوگیا، جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرے اور جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرے۔

اِس کورس کا دوسرا جُز ء عملِ صالح ہے۔ عملِ صالح سے مراد وہ عمل ہے جو عین حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ عملِ صالح کی اِس فہرست میں ذکر و دعا، عبادات، اخلاق اور معاملات، وغیرہ سب شامل ہیں۔ ہر وہ کام جس میں انسان کا جسمانی وجود شامل ہوتا ہے، وہ سب اِس کا عمل ہے اور یہ مطلوب ہے کہ ان تمام اعمال کو صالحیت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی عمل کی دو قسمیں ہیں: ایک، خود رُخی (self-oriented) عمل اور دوسرا، خدا رُخی (God-oriented) عمل۔ اسلامی شریعت میں خود رُخی عمل کا دوسرا نام غیر صالح عمل ہے اور خدا رُخی عمل کا دوسرا نام صالح عمل۔ اِس کورس کا تیسرا جُز ء تو وصی ہے۔ تو صی میں مشارکت پائی جاتی ہے۔ اِس کا مطلب ہے ایک دوسرے کو نصیحت کرنا۔ دو آدمی ایک دوسرے کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت، سنجیدہ موضوعات پر ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کریں، اِس کا نام تو صی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ تو صی نام ہے باہمی تبادلۂ خیال (mutual discussion) کا۔ دینی موضوعات پر باہمی ڈسکشن کسی مومن کی زندگی کا اِسی طرح ایک ناگزیر حصہ ہے، جس طرح ایمان اور عملِ صالح۔

یہ باہمی تبادلۂ خیال، یا اِنٹلیکچول ایکسچینج (intellectual exchange) ذہنی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِنٹلیکچول ایکسچینج کے بغیر ذہنی ترقی بالکل ممکن نہیں۔ جب دو آدمی سنجیدگی کے ساتھ ایک موضوع پر تبادلۂ خیال کریں تو دو آدمیوں کی گفتگو کے دوران ایک تیسرا تصور ایمرج (emerge) کرتا ہے، جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے، یعنی چنگاری۔ اِسی طرح باہمی تبادلۂ خیال دونوں کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے تواصی کے اِس عمل کا موضوع صرف دو ہے، اور وہ ہے ۔ حق اور صبر۔ حق میں تمام مثبت موضوعات شامل ہیں۔ مثلاً قرآن اور حدیث کے گہرے معانی کو سمجھنے کے لیے باہمی تبادلۂ خیال کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2023 All issues

Printed page