Al-Risala · May 2023 · page 38

مثبت سوچ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۸

نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کے برعکس، داخلی اصلاح سے ظاہر کی اصلاح ہوتی ہے۔

رعایت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو دین پر عمل کرنا، زیادہ مشکل نہیں معلوم ہوتا۔ وہ متوحش ہوئے بغیر دینی اعمال کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے آدمی کے داخل کی اصلاح ہوتی ہے، پھر دھیرے دھیرے اس کے ظاہر بھی دین کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ رعایت دراصل حکیمانہ طریق کار کا دوسرا نام ہے، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقی اصلاح ہمیشہ حکیمانہ طریق کار کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ غیر حکیمانہ طریق کار کے ذریعے ۔ مصلح کا طریقہ ہمیشہ رعایت کا ہونا چاہیے ۔ مصلح کا سارا زور اس پر ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے اندر جذبۂ عمل پیدا کرے۔ عمل کا جذبہ پیدا ہوتے ہی آدمی وہ کام خود کرنے لگتا ہے جس کو شدت پسند مصلح نا کام طور پر انجام دینا چاہتا ہے۔

مثبت سوچ

ایک ہندستانی کو پہلی بار جاپان جانے کا موقع ملا۔ ایک روز انھوں نے اپنے جاپانی میزبان سے ازراہِ ہمدردی کہا: ”آپ لوگوں کے ساتھ امریکا نے بڑا ظلم کیا۔ اس نے تاریخ کے پہلے ایٹم بم آپ کے ملک پر گرائے اور آپ کے دو شہروں کو کھنڈر بنا دیا۔ “ ”نہیں کوئی ظلم نہیں“ جاپانی نے کہا۔ ”یہ بم تو ہمارے لیے رحمت ثابت ہوئے۔ ہمارے یہ شہر قدیم طرز پر آباد تھے۔ تنگ اور خم دار سڑکیں، فرسودہ مکانات، گندے محلے، ان کا نام تھا ہیروشیما اور ناگاساکی۔ معمولی حالات میں ہم نئے طرز پر ان کی تعمیر نہیں کر سکتے تھے۔ مگر جب جنگ نے اچانک ان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا تو ہم کو موقع مل گیا اور ہم نے قدیم ملبہ پر انتہائی جدید قسم کے منصوبہ بند شہر آباد کر دیے“۔ مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے۔ وہ ہر بربادی میں اپنے لیے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈ لیتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2023 All issues

Printed page