حکمت اور شکر
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۵
حکمت اور شکر
قرآن کی سورہ لقمان کی ایک آیت یہ ہے: وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (31:12)۔ یعنی، اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرے گا تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرے گا اور جو ناشکری کرے گا تو اللہ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ شکر سے پہلے حکمت ضروری ہے۔ شکر بلاشبہ سب سے بڑی عبادت ہے، لیکن صاحبِ شکر بننے سے پہلے ضروری ہے کہ آدمی صاحبِ حکمت بن چکا ہو۔ شکر اگر شکر ہے تو حکمت پری شکر (pre-shukr) کی حیثیت رکھتی ہے۔
شکر کی نسبت سے حکمت (wisdom) کی اہمیت یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے تحت زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ یہاں ناشکری کے اسباب موجود رہتے ہیں۔ کوئی انسانی معاشرہ کبھی شکایت، منفی سوچ اور ناخوشگوار تجربے سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کے حالات انسان کو نہایت آسانی سے ناشکری کی نفسیات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس کا دماغ نفرت اور شکایت کے خیالات سے بھر جاتا ہے۔ ایسی حالت میں شکر کی نفسیات میں جینے کے لیے اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔ حکمت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ منفی حالات کے باوجود مثبت انداز میں سوچ سکے۔ شکایت کے اسباب کے باوجود وہ شکایت کا ذہن اپنے اندر نہ پیدا ہونے دے۔ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ اپنے آپ کو مشتعل ہونے سے بچائے۔ ناانصافی کا تجربہ ہونے کے باوجود وہ ناانصافی اور حق تلفی سے اوپر اٹھ کر سوچے۔
اسی قسم کی اعلیٰ سوچ کا نام حکمت ہے۔ جولوگ اپنے اندر اس قسم کی اعلیٰ سوچ پیدا کریں، انھیں کے لیے ایسا ممکن ہے کہ ان کے اندر حقیقی معنوں میں شکر کے جذبات پرورش پائیں۔ شکر کے لیے ایک تیار ذہن (prepared mind) درکار ہے۔ تیار ذہن کے بغیر شکر کی عبادت ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues