فہم قرآن
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۸
فہم قرآن
کہا جاتا ہے کہ ”قرآن مجید ایک مرتب کتاب ہے اور اس کے نظم کو جانے بغیر اس کے معانی تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ نظم قرآن فہم قرآن کی بنیاد ہے۔ “ یہ جملہ ایک بیان ہے۔ اس قسم کا کوئی بیان ہمیشہ کسی دلیل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس معاملے میں دلیل صرف ایک چیز ہو سکتی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن یا حدیث میں اس مفہوم کا ایک بیان لفظاً موجود ہو۔ اس معاملے میں کسی قسم کی استنباطی دلیل کافی نہیں۔ جب تک یہ بات قرآن و سنت میں لفظاً موجود نہ ہو، وہ صرف ایک مفروضہ ہے، جو استنباط کے درجے میں رہے گا، اس کا درجہ ہر گز ایک مدلل بیان کا نہیں ہو سکتا۔
مثلاً ایک شخص اگر یہ کہے کہ قرآن فہمی کے لیے تقویٰ ضروری ہے، تو اس کے پاس قرآن کی دلیل موجود ہوگی، جس میں یہ کہا گیا ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ (2:282)۔ اسی طرح کوئی یہ کہے کہ قرآن فہمی کے لیے تدبر ضروری ہے تو اس کے پاس بھی حوالے کے لیے یہ آیت موجود ہوگی: لَيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ (38:29)۔ اسی طرح قرآن میں ایک مقام پر پہاڑ اور دوسرے فطری اشیاء کا ذکر ہے۔ اس کے بعد یہ فرمایا گیا ہے: اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (35:28)۔ اس پر تدبر کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یونیورس کا علم قرآن فہمی میں مددگار ہے۔ لیکن جو شخص یہ کہے کہ نظم آیات کا علم قرآن فہمی کے لیے کلید کا درجہ رکھتا ہے، تو اس کو اس قسم کی کوئی صریح دلیل دینی چاہیے۔ اس معاملے پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سارے قرآن میں کہیں بھی لفظاً یہ بات موجود نہیں ہے کہ نظم قرآن فہم قرآن کی کلید ہے۔ اس کے برعکس، یہ بات لفظاً موجود ہے کہ تقویٰ کی صفت پیدا کرو تو تم قرآن کو سمجھنے والے بن جاؤ گے، یا تدبر کی صفت پیدا کرو تو تم قرآن کو سمجھنے والے بن جاؤ گے۔ ایسی حالت میں یہ بات نا قابل فہم ہے کہ کوئی طالب علم کس طرح ایسا کرے کہ قرآن فہمی کا جو اصول قرآن میں لفظاً موجود ہے، اس کو وہ چھوڑ دے، اور جو اصول قرآن میں لفظاً موجود نہیں ہے، اس کو وہ اختیار کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues