Al-Risala · July 2024 · page 13

دانش مندانہ طریقہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۱۳

دانش مندانہ طریقہ

صحابی رسول عمیر بن حبیب انصاری نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: مَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258)۔ یعنی جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔

صحابی کے اس قول میں اجتماعی زندگی کی ایک حکمت کو بتایا گیا ہے۔ اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا، ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعراض کیا جائے، نہ کہ ٹکراؤ شروع کر دیا جائے۔ اگر آپ ایسے موقعے پر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں تو وہ ہمیشہ چین رِی ایکشن (chain reaction) کا سبب بنے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ہمیشہ خارجی مسائل میں الجھے رہیں گے، اور کبھی اپنے منصوبے کے مطابق مؤثر عمل شروع نہ کر سکیں گے۔ دوسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خود اپنے کام میں استعمال نہیں کیا، بلکہ اس کو دوسروں کی مخالفت میں ضائع کر دیا۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں او ایڈنس (avoidance) کا طریقہ۔ اس طرح کے معاملے میں یہی واحد طریقہ قابل عمل ہے، کوئی دوسرا طریقہ اس معاملے میں ورک (work) کرنے والا نہیں۔

اعراض بامقصد انسان کی سوچی سمجھی حکیمانہ روش ہے۔ بامقصد انسان دوسرے کی طرف سے پیش آنے والے ناخوش گوار تجربے پر اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کے سامنے ایک متعین منزل ہوتی ہے، جہاں پہنچنا اس کا سب سے بڑا کنسرن (concern) ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اعراض کا طریقہ اختیار کر کے راستہ کے ہر اُلجھاؤ سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے۔ وہ اپنے وقت اور اپنی انرجی دونوں کو بچاتا ہے، تاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page