Al-Risala · July 2024 · page 28

قصور اپنا نکل آیا

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۲۸

قصور اپنا نکل آیا

نوجوانی کی عمر میں میں نے ایک اردو ماہنامے میں ایک مضمون پڑھا تھا۔ اس کا عنوان تھا: قصور اپنا نکل آیا۔ یہ عنوان معروف اردو شاعر مومن خاں مومن (1852-1800) کے ایک شعر سے لیا گیا تھا، جس کا پورا مصرعہ اس طرح ہے:

میں الزام اس کو دیتا تھا، قصور اپنا نکل آیا

جہاں تک مجھے یاد ہے اس میں مضمون نگار نے بتایا تھا کہ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ہمیشہ دوسروں کو الزام دیتا ہے، لیکن غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کو جو تکلیف یا نقصان پہنچتا ہے، وہ کہیں نہ کہیں خود اپنی غلطی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انسان یہ کرتا ہے کہ واقعات کی ترتیب ایسے انداز سے کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح غلطی دوسرے کی ثابت ہو جائے اور وہ آدمی خود اپنی غلطی سے بچارہے۔ سماجی زندگی میں کوئی واقعہ منفرد طور پر انجام نہیں پاتا، بلکہ ہر واقعہ مختلف اسباب کا مجموعی نتیجہ ہوتا ہے۔ انسان یہ کرتا ہے اسباب کی موافق کڑیوں کو لیتا ہے، اور بظاہر اپنے خلاف نظر آنے والی کڑیوں کو حذف کر دیتا ہے۔ وہ واقعے کو اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ نتیجہ اپنے حسب حال دکھائی دینے لگے۔ یہ غلطی افراد بھی کرتے ہیں، اور قومیں بھی۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر غلطی کی اصلاح نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ سے سماجی زندگی میں ہمیشہ شکایت اور ٹکراؤ کے حالات باقی رہتے ہیں۔ غلطی کی اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے کیجیے، اور پھر ہر مسئلہ اس طرح حل ہو جائے گا، جیسے کہ وہ تھا ہی نہیں۔ اپنی نوجوانی کے زمانے میں میں سفر کیا کرتا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ ہر آدمی دوسرے کی شکایت کر رہا ہے، ہر آدمی کسی نہ کسی کے ظلم کو بیان کر رہا ہے۔ میں سوچتا تھا کہ جب ہر آدمی مظلوم ہے تو وہ شخص کہاں ہے، جو ظالم کا رول ادا کر رہا ہے۔ بہت دن کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی غلطی کو دوسرے کے اوپر ڈال رہا ہے۔ کوئی شخص خود اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔ یہی تمام مسائل کا سبب ہے۔ اس تجربے کے بعد میرا یہ مزاج بن گیا کہ میں کبھی کسی دوسرے کو الزام ہی نہیں دیتا، ہمیشہ ہر غلطی کا الزام اپنے آپ پر دیتا ہوں، حتیٰ کہ ایسی غلطی بھی جو بظاہر میری نہیں ہوتی۔ کیوں کہ غلطی کا الزام دوسرے کو دینا مجھ کو غیر فطری کام معلوم ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page