Al-Risala · September 2024 · page 28

تبدیلیوں کی حقیقت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۸

اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اس صورت حال کا جائزہ لیں، اور اپنی پسماندگی (backwordness) کو دور کرنے کے لیے جدید معیار پر منصوبہ بنائیں ۔ مثلاً تعلیم کے میدان میں ریزرویشن کی مانگ کی سیاست کو مکمل طور پر ترک کر دیں ، اور اپنے نوجوانوں سے یہ کہیں کہ تم کو مسابقت (compatition) کے میدان میں آگے بڑھنا ہے، ریزرویشن کی مانگ سے تم کو کچھ ملنے والا نہیں۔

تبدیلیوں کی حقیقت

بمبئی کو دروازہ ہند (گیٹ وے آف انڈیا) کہا جاتا ہے۔ اس کی علامت کے طور پر وہاں سمندر کے کنارے اس نام کا ایک گیٹ بنایا گیا ہے ۔ یہ اس زمانے کی یادگار ہے جب کہ سمندر کے راستے سے ہندوستان آنے والے لوگ بمبئی کی بندرگاہ پر اتر کر ہندوستان میں داخل ہوتے تھے۔ مگر اب سفری حالات بدل چکے ہیں ۔ اب ہندوستان کا دروازہ بمبئی کی سمندری بندرگاہ نہیں ، بلکہ دہلی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے۔ اب بندرگاہوں کے بجائے ہوائی اڈوں کے ذریعہ ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تاہم یہ فرق طریق داخلہ کا فرق ہے، نہ کہ اصول داخلہ کا۔ اس سے دوسرے ملک کے شہریوں کے ہندوستان میں داخل ہونے کے قوانین پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

یہ ایک مثال ہے، جس سے ان تبدیلیوں کی حقیقت سمجھی جاسکتی ہے، جس کے حوالہ سے مذہب میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ بلاشبہ دنیا میں بہت سی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ تبدیلیاں مذہب اور سماج کے درمیان پھر سے مطابقت کا تقاضا کرتی ہیں ۔ مگر یہ صرف موجودہ حالات پر مذہب کے اصولوں کے از سر نو انطباق (re-application) کا سوال ہے ، نہ کہ خود مذہب کو بدل کر نیا مذہب بنانے کا ۔ قدیم زمانہ میں جانور سواری کا کام دیتے تھے ۔ آج سفر کے لیے مشینی سواریاں استعمال ہوتی ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک مسافر پورب کی سمت کے ایک مقام پر پہنچنے کے لیے پہلے پورب جاتا تھا، اب وہ اس کے لیے پچھم کی طرف دوڑنے لگے گا۔ (الرسالہ مئی 1978)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page