جنگ نہیں
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴
جنگ نہیں
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً (8:25)۔ یعنی، اور تم لوگ بچو ایک فتنہ سے جو ہرگز محدود نہیں رہے گا (صرف) ان لوگوں تک جنھوں نے ظلم کیا ہے۔ علامہ ابن الجوزی (وفات 1201ء) کہتے ہیں کہ اس آیت میں فتنہ کا ایک مطلب علما کے نزدیک قتال بھی ہے (زاد المسیر ، جلد 2، صفحہ 201)، یعنی جنگ۔ علامہ واحدی نیشاپوری (وفات 1076ء) نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ ہر اس فتنے سے دور رہو کہ اگر تم اس کو اوائڈ نہیں کروگے تو اس کا سنگین نتیجہ تم میں سے صرف فتنہ بھڑکانے والے ظالموں تک محدود نہیں رہے گا (لا تقع بالظالمین دون غیرهم) بلکہ فتنہ بھڑکانے والے اور نہ بھڑکانے والے ہرایک اس کی لپیٹ میں آجائیں گے (الوجیز للواحدی، صفحہ 436)۔ جدید جنگی آلات کے ذریعہ لڑی جانے والی جنگ اس آیت کی واضح مثال ہے۔ نئی دہلی میں ایک صاحب میڈیکل ٹورزم کی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے ایک مرتبہ میں نے یہ پوچھا کہ افغانستان، عراق، شام اور یمن وغیرہ میں جو طویل عرصے تک جنگ ہوئی ہے، وہاں کی عوام کی صحت پر اس کا کیا اثر دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے جو جواب دیا تھا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت برا اثر ہوا ہے۔ بارود اور دوسرے کیمیائی ہتھیاروں (chemical weapons) کے استعمال کی وجہ سے ان ملکوں میں بستی کی بستی کینسر اور دوسری سنگین بیماریوں کی لپیٹ میں آچکی ہیں۔ حالاں کہ عام لوگوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ جسمانی معذوری تو بہت زیادہ عام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم دور کی جنگ کا نقصان عام طور پر صرف لڑنے والوں کے درمیان رہتا تھا، مگر جدید جنگی آلات، خاص طور پر ویپنز آف ماس ڈسٹریکشن نے جنگ کا مطلب بالکل بدل دیا ہے۔ میں نے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) پر یہ سوال پوچھا کہ ماڈرن وار کا اثر کیا ہوتا ہے تو اس نے یہ جواب دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues