Al-Risala · September 2024 · page 38

13 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۸

آج مالیگاؤں کے کئی آدمی ملنے کے لیے آئے۔ مالیگاؤں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور بیشتر لوگ پاور لوم کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہاں کا ہر آدمی کسی نہ کسی اعتبار سے پاور لوم کی انڈسٹری سے وابستہ ہے۔

گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ مالیگاؤں کی تجارت میں مسلمانوں کا کتنا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر تجارت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے بعد میں نے مزید سوالات شروع کیے تو معلوم ہوا کہ ان کا یہ جملہ واقعہ کے مطابق نہیں کہ مالیگاؤں کا زیادہ تر کاروبار مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ سوت کی سپلائی کا کاروبار زیادہ تر ہندو کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح تیار شدہ کپڑوں کو مارکیٹ میں لانے کا کام بھی ہندو کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پاور لوم کاروبار کے دو سب سے بڑے حصے پر ہندو صاحبان کا قبضہ ہے۔ اولاً، ابتدائی مرحلہ میں سوت فراہم کرنا، ثانیاً، آخری مرحلہ میں تیار شدہ سامان کو بازار میں لانا۔ سوت کی سپلائی اور تیار شدہ مال کی مارکیٹنگ یہ دونوں آڑھت والے کام ہیں۔

پورے شہر میں ان کے صرف چند ڈیلر ہوتے ہیں۔ جب کہ دوسرے کاموں میں ہزاروں لوگ مشغول رہتے ہیں اور ہر گلی اور ہر سڑک پر اس کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس بنا پر انہوں نے سمجھ لیا کہ مسلمان مالیگاؤں کے زیادہ تر تجارتی حصے پر قابض ہیں۔ حالانکہ جو لوگ بزنس کو سمجھتے ہیں، انہیںں معلوم ہے کہ پاور لوم کی انڈسٹری میں زیادہ بڑا حصہ (lion's share) انہی لوگوں کو ملتا ہے جو خام مال سپلائی کرتے ہوں اور تیار شدہ مال کی مارکیٹنگ کر رہے ہوں۔ آدمی کے اندر تجزیاتی ذہن نہ ہو تو وہ اپنے قدموں کے نیچے کے حالات سے ہمیشہ بے خبر رہے گا۔

13 جون 1986

مولانا امیر اللہ قاسمی (محبوب نگر) نے بتایا کہ محبوب نگر کے ایک صاحب بنگلہ دیش گئے۔ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ وہاں گئے تھے۔ بنگلہ دیش میں اقتصادی ابتری کا حال دیکھ کر انہوں نے وہاں کے ایک تعلیم یافتہ شخص سے پوچھا کہ بنگلہ دیش کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہے۔ مذکورہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page