Al-Risala · September 2024 · page 40

15 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۰

”اللہ اکبر“ میں اسلام کی تعلیمات کو خالص فطری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ قاری کی فطرت کو اپیل کرتا ہے۔ مناظرہ کے طریقہ سے ہندوؤں کو اسلام سے چڑھ ہوتی تھی۔ جب کہ ”اللہ اکبر“ والا طریقہ ان کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اسلام کے مثبت پیغام کو اس ملک کے ہندوؤں اور دوسری قوموں کے سامنے پیش کر سکیں۔

15 جون 1986

محمد اسلم صاحب ہوم منسٹری میں انڈر سکریٹری ہیں۔ آج کل وہ نمبر 44 پٹودی ہاؤس (نئی دہلی) میں رہتے ہیں۔ ان سے ان کے مکان پر ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی بھی ساتھ تھے۔ جناب اسلم صاحب نے بعض علما کی تحریریں دکھائیں، جن میں حجاج بن یوسف کو بہت برا بھلا کہا گیا تھا۔ کیوں کہ اس نے منجنیق کے ذریعے کعبہ پر پتھر پھینکے۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ حجاج بن یوسف عبد الملک کی طرف سے حجاز کا گورنر تھا۔ اسی زمانے میں عبد اللہ بن زبیر نے عبد الملک کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی اور کعبہ کو مرکز بنا کر اپنی مخالفانہ تحریک چلانے لگے۔ اس وقت عبداللہ بن زبیر کو زیر کرنے کے لیے حجاج بن یوسف نے جو کارروائیاں کیں انہیں میں سے ایک بیت اللہ پر پتھر پھینکنا ہے۔

یہ عمل اگر غلط ہے تو اتناہی غلط سعودی حکومت کا وہ عمل ہے جب کہ 1979 میں شاہ خالد کے زمانہ میں باغیوں کو مغلوب کرنے کے لیے بیت اللہ کے اندر گولیاں چلائی گئیں اور مسلح فوج اس کے اندر داخل ہو گئی۔

ہمارے علما حجاج بن یوسف کے خلاف پر جوش طور پر لکھتے اور بولتے ہیں، مگر مجھے موجودہ زمانہ کا کوئی ایک بھی قابل ذکر عالم معلوم نہیں ہے جس نے شاہ خالد کی اس قسم کی کارروائی کے خلاف کوئی مذمتی بیان دیا ہو۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ بالا دونوں عمل بالکل یکساں قسم کے عمل ہیں۔ اگر وہ غلط ہیں تو

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page