اعتراف خطا
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۸
اعتراف خطا
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
یہ آیت تخلیقی (creative) مزاج لوگوں کے بارے میں ہے۔ تاریخ میں تمام بڑا کام تخلیقی مزاج لوگوں نے کیا ہے۔ وہ عام لوگوں سے زیادہ بڑا کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ روایتی طریقے سے ہٹ کر کام کرتے ہیں۔ اس بنا پر ایسے لوگوں کے لیے غلطی کا امکان بھی زیادہ رہتا ہے۔ آیت میں اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ آدمی ہر حال میں پُر امید رہ کر اپنا عمل جاری رکھے۔ وہ ہر حال میں یہ ایمان رکھے کہ اگر نیت درست ہے تو کوئی غلطی خواہ کتنی ہی بڑی ہو، اللہ کی معافی کی کوئی حد نہیں۔ ایک مرتبہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ مجھ سے برابر گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ آپ نے کہا: جب بھی غلطی ہو جائے تو بہ کر لو، اس نے کہا: تب میرے گناہ بہت زیادہ ہو جائیں گے۔ آپ نے کہا: عَفْوُ اللهِ أَكْثَرُ مِنْ ذُنُوبِكَ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 4854)۔ یعنی، اللہ کی معافی تیرے گناہ سے زیادہ وسیع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلطی کرنا برائی نہیں ہے، بلکہ غلطی کرنے کے بعد اللہ سے رجوع نہ کرنا برائی ہے۔ اللہ کے بارے میں یہ اعتقاد امید کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اس عقیدہ کی صورت میں امید کی کوئی حد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان ایک ارتقاپذیر حقیقت ہے۔ اس لیے اللہ کی رحمت سے امید کوئی سادہ بات نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمل کا موقع انسان کے لیے ہر حال میں باقی ہے۔ یہ عقیدہ گویا مزید عمل کے لیے محرک (incentive) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر عمل کے مواقع کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ مزید سوچے، اپنا کریکشن کرے اور مواقع کی مزید صورتیں ڈھونڈ کر نکالے اور ہر حال میں اپنے مقصد کے لیے کوشش جاری رکھے۔ اس دنیا کا فطری قانون یہ ہے کہ جو ناامید ہوا، وہ ناکام ہو گیا، اور جس نے امید باقی رکھی، وہ کامیابی تک پہنچا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues