غیر سنجیدہ انسان
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۱۱
خدا کا وجود
خدا کی دریافت انسان کے لیے معرفت کا آغاز ہے۔ جو شخص اللہ رب العالمین کو دریافت کر لے اس نے تمام حقیقتوں کو دریافت کر لیا۔ اس نے حقیقت کے سرے کو پالیا۔ خدا کی دریافت کے بغیر ہر چیز غیر دریافت شدہ بنی رہتی ہے۔ خدا کی دریافت کرنے کے بعد ہر چیز دریافت شدہ بن جاتی ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی انسان کو وہ شاہ کلید (master key) مل جاتی ہے، جس کے بعد اس کے لیے ہر چیز کو دریافت کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی اس کے ذہن کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی دروازہ اس پر بند نہیں رہتا۔
خدا کی دریافت کسی انسان کے لیے اتناہی آسان ہے، جتنا خود اپنی دریافت۔ اسی لیے کہا گیا ہے: مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ (حلیۃ الاولیاء، جلد 10، صفحہ 208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو دریافت کیا، اس نے اپنے خدا کو دریافت کر لیا۔ اس قول کو ایک حدیث پر غور کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔
اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کے اندر جو صفات خالق کی سطح پر کامل معنوں میں موجود ہیں، انھیں میں سے کچھ صفات انسان کے اندر مخلوق کی سطح پر بطور عطیہ موجود ہیں، جو خدا نے انسان کو عطا کیا ہے۔ مثلاً رحم، شفقت، تدبیر، وغیرہ۔ اس کی بنا پر یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک سے دوسرے کو سمجھے۔ وہ اپنے وجود کی معرفت حاصل کر کے اللہ رب العالمین کی معرفت تک پہنچے۔ اگر آدمی ایسا کرے تو اس کے لیے اللہ کی یاد، اللہ سے دعا کرنا، اللہ کا تصور قائم کرنا، آسان ہو جائے گا۔ مثلاً انسان اپنے ساتھ کسی کی شرکت کو پسند نہیں کرتا۔ اس کو غیرت آتی ہے کہ اس کے ساتھ کوئی انسان اس کا شریک بن جائے ۔ اس تجربے سے انسان کو یہ سبق لینا چاہیے کہ اللہ رب العالمین بدرجہا زیادہ اس صفت کا حامل ہوگا، یعنی اس معاملے میں اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ انسان اگر سنجیدہ ہو تو یہ اصول اس کے لیے خدا کی معرفت میں بہت زیادہ مددگار بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues