یہود کا ذکر قرآن میں
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۱۳
یہود کا ذکر قرآن میں
یہود کا ذکر قرآن میں اصلاً خود یہود کے لیے نہیں ہے۔ قرآن میں یہود کا ذکر بطور مثال ہے۔ یہود کی مثال سے امت محمدی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اس روش سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اس حقیقت کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے:
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (57:16)۔ یعنی کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے ۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔
یہ کسی امت کے دورِ زوال کی بات ہے، جو طولِ امد یعنی لمبا عرصہ گزرنے کے بعد فطرت کے قانون کے مطابق لازماً پیدا ہوتا ہے۔ یعنی یہ ظاہرۂ بعد کی نسلوں میں پیش آتا ہے، نہ کہ ابتدائی نسلوں میں۔ بعد کے دور میں یہ ہوتا ہے کہ امت کی ابتدائی نسل ختم ہو کر نئی نسل آجاتی ہے جن میں عمومی سطح پر ایمان شعوری دریافت کے بجائے ایک قومی کلچر بن جاتا ہے۔ ان میں آخرت کا زندہ احساس باقی نہیں رہتا۔ خشیت الہی کے بجائے ”اللہ کی منتخب قوم“ کا خود ساختہ تصور پیدا ہو جاتا ہے، وغیرہ۔ اس دورِ زوال کا تعلق صرف یہود سے نہیں ہے، بلکہ ہر اس گروہ سے ہے، جس پر طولِ امد کا تجربہ پیش آجائے۔ یعنی وہ چیز جس کو نفسیات کی اصطلاح میں ڈی جنریشن کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی گروہ لمبی مدت پیش آنے کے بعد ڈی جنریشن کا شکار ہونے سے بچ نہیں سکتا۔ اس عمل سے کلی طور پر بچنا شاید ممکن نہ ہو۔ البتہ تعلیم و تربیت کے ذریعے اس کے اثر کو کم کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے کے یہود میں جزئی طور پر یہ واقعہ پیش آیا ہے، اگرچہ وہ زیادہ تر سیکولر معنی میں ہے۔ قرآن امت یہود اور امت نصاریٰ کی مثال دے کر امت مسلمہ کو یہ رہنمائی دے رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قسم کی زوال یافتہ روش سے دور رکھیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues