غصہ ایک طاقت
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۱۶
غصہ ایک طاقت
قرآن میں غصے کے بارے میں یہ رہنمائی آئی ہے: وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (3:134)۔ یعنی وہ غصہ کو پی جانے والے ہیں، اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ مجھے کوئی نصیحت کیجیے۔ آپ نے کہا: غصہ نہ کرو (لَا تَغْضَبْ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 6116۔
قرآن اور حدیث میں غصہ کے بارے میں جو تعلیم دی گئی ہے، وہ زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ لوگوں کی باتوں پر غصہ ہونے کے بجائے غصہ کو کنٹرول کرو۔ یہ تمھارے لیے روحانی ترقی کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ وہ یہ کہ غصہ بظاہر ایک منفی واقعہ ہے۔ مگر جب تم ایسا کرو گے تو فطرت کے قانون کے مطابق، غصہ کی طاقت کنورٹ ہو کر پازیٹیو واقعہ بن جائے گا۔ اس طرح غصہ تمھارے لیے تمھاری روحانی ترقی کا ذریعہ بن جائے گا۔ جب تم غصہ کو کنٹرول کرو گے تو اس کے بعد تمھارے اندر فطری طور پر ایک پراسس جاری ہوگا، جو تمھارے لیے روحانی ترقی کا ذریعہ بن جائے گا۔ آدمی کو جب غصہ آتا ہے تو یہ انسان کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہوتا ہے۔ غصے کے وقت انسان کے اندر ایک زبردست انرجی خارج ہوتی ہے۔ اس کو اینگر انرجی (anger energy) کہہ سکتے ہیں۔ اس انرجی کو اگر پازیٹیو سائیڈ میں کنورٹ نہ کیا جائے تو وہ تخریب کا ذریعہ بن جائے گی، لیکن اگر اس انرجی کو پازیٹیو سائیڈ میں کنورٹ کر دیا جائے تو وہ انسان کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
انسان کے اندر یہ سب جو ہوتا ہے، وہ خود فطرت کے پراسس کے تحت انجام پاتا ہے۔ اس وقت فطرت کے قانون کے تحت انسان کے اندر ایک عمل جاری ہوتا ہے، جو اینگر انرجی کو انسان کے لیے تعمیر کی طاقت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اس معاملے میں انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ غصہ کے وقت چپ رہ کر فطرت کے قانون کو اپنا کام کرنے کا موقع دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues