Al-Risala · November 2024 · page 19

ظلم یا عصری تقاضا

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۱۹

ظلم یا عصری تقاضا

آج کل لکھنے ار بولنے والوں کا عام انداز یہ ہو گیا ہے کہ وہ ہر بات کو ظلم کے انداز میں لیتے ہیں، وہ اپنی بات اس طرح کہتے ہیں، جیسے کہ مسلمان مظلوم ہیں، اور ساری دنیا ان کے ظالم بن گئی ہے۔ یہ طریقہ حقیقت و واقعہ کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے، وہ کسی ظالم کے ظلم کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ عصری تقاضے کا معاملہ ہے۔ عصری تقاضے کو نہ جاننے کی بنا پر وہ اس ظلم کا معاملہ بنا کر منفی زبان بولتے ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانہ اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of speech) کا زمانہ ہے۔ بین اقوامِ اتفاق سے یہ مان لیا گیا ہے کہ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے خیال کا آزادانہ اظہار کرے۔ اس حق میں یہ شامل نہیں ہے کہ اس کی بات کسی کے جذبات کو مجروح کرنے والی نہ ہو۔ اس معاملے میں جو شرط ہے، وہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ اس کی بات کے ساتھ تشدد (violence) شامل نہ ہو۔ مگر مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ اس عصری تقاضے سے واقف نہیں۔ اس لیے جب وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ ایسی بات کر رہے ہیں، جو اس کے اپنے خیال کے مطابق اس کے جذبات کو مجروح کرنے والا ہے، تو وہ بھڑک اٹھتا ہے، حتیٰ کہ تشدد پر اتر آتا ہے۔

مسلمانوں کا یہ ردِّ عمل عصری تقاضے کے سراسر خلاف ہے۔ مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ اس زمانے میں قول کے مقابلے میں قول کا انھیں پوری طرح حق ہے، لیکن قول کے مقابلے میں تشدد کا ہرگز انھیں اختیار نہیں۔ اظہارِ خیال کی آزادی کسی ایک گروہ کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ تمام گروہوں کے لیے ہے۔ اگر کوئی شخص اظہارِ خیال کی آزادی کو اپنے فکر کی اشاعت کے لیے استعمال کر رہا ہے تو مسلمانوں کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے فکر کی اشاعت کے لیے اس آزادی کو استعمال کریں۔ مثلاً اگر دوسرا شخص اسلام کے خلاف کتاب چھاپ رہا ہے تو مسلمانوں کو یہ حق ہے کہ وہ اس کے جواب میں اسلام کے موافق کتابیں تیار کر کے اس کو چھاپیں اور پھیلائیں۔ مگر ان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی قول کا جواب متشدّدانہ ردِّ عمل سے دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page