Al-Risala · November 2024 · page 26

بیانیہ انداز

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۶

بیانیہ انداز

مسلم اہل علم کی تحریروں میں عام طور پر بیانیہ اسلوب کا رواج ہے۔ بیانیہ اسلوب یہ ہے کہ آدمی ایسی بات کہے جو اس کے اپنے ذہن کی بات ہو، لیکن اس کے ذہن کے باہر اس کا کوئی واقعاتی مصداق موجود نہ ہو۔ یعنی دلیل اور شواہد کو بتائے بغیر کوئی بات کہنا۔ مثلاً یہ کہنا کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں ہر جگہ محصور حالت (under siege) میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس صورت حال پر میں نے غور کیا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ یہ قدیم شاعرانہ اسلوب کا تسلسل (extension) ہے۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں شاعرانہ اسلوب کا رواج تھا۔ موجودہ زمانے میں جب سائنسی طریقہ رائج ہوا تو اس اسلوب کا خاتمہ ہو گیا۔ اس بنا پر آج کی دنیا میں شعر (poetry) کے بجائے نثر (prose) کی اہمیت ہو گئی۔ اس حقیقت کو پہلی بار میں اس وقت سمجھا جب کہ میں نے مندرجہ ذیل کتاب پڑھی جو کہ 1965 میں شائع ہوئی:

The Great Intellectual Revolution

یہ کتاب جان فریڈرک ویسٹ نے لکھی ہے۔ اس کتاب کا ایک باب یہ تھا:

The Death of Metaphor

یعنی تمثیلی اسلوب کا خاتمہ۔ (اس کا ترجمہ الرسالہ، اکتوبر، 1985 اور دسمبر، 2019 میں اس عنوان کے تحت چھپ چکا ہے: ادبی انقلاب)۔ اس میں ولیم شیکسپیئر (1616-1564ء) اور جان ملٹن (1674-1608ء)، وغیرہ کا مطالعہ کر کے اس معاملہ کو واضح کیا گیا ہے۔ مغربی ملکوں میں ایگزیکٹ سائنس (exact sciences) کے رواج کی بنا پر سائنٹفک اسلوب پر مبنی یہ تحریری کلچر رائج ہو چکا ہے۔ سائنٹفک اسلوب سادہ اسلوب ہے۔ وہ حقیقت نگاری کا دوسرا نام ہے، یعنی دلائل و شواہد کی بنیاد پر دیا گیا بیان۔ اس کے برعکس، مسلم سماج میں سائنٹفک ذہن نہ ہونے کی وجہ سے بیانیہ اسلوب ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔ بیانیہ اسلوب کا مطلب ہے دلائل و شواہد سے خالی مفروضہ بیان۔ یعنی آدمی ایسی بات کہے جو مدلل (well-grounded) نہ ہو، بلکہ خیالی بات ہو، جس کا حقیقی مصداق اس کے ذہن کے باہر موجود نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page