علم اور تقویٰ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۹
علم اور تقویٰ
سورہ البقرہ میں فرمایا گیا ہے کہ: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ (2:282)، یعنی اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو تعلیم دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم کا تقویٰ سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم اور صحت فکر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ آدمی کے پاس اگر علم یا معلومات کا ذخیرہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ درست فکر یا صحیح سوچ کا بھی حامل ہوگا۔
اصل یہ ہے کہ علوم قطعیہ (exact sciences) میں ریاضیات اور تجربات کے ذریعہ ایک یقینی بات سامنے آسکتی ہے۔ مگر جہاں تک علوم ظنی (speculative sciences) کا تعلق ہے، ان میں اس قسم کی قطعیّت (certainty) ممکن نہیں۔ اس دوسری قسم کے علوم میں صحت فکر کے لیے آنسٹی (honesty) لازمی طور پر ضروری ہوتی ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر یہی آنسٹی پیدا کرتا ہے۔ یہ آنسٹی اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ آدمی کا علم اس کو نادرست طرزِ فکر سے بچا لے ۔ خالق نے انسان کو لامحدود فکری صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ لیکن تفکیری عمل کو درست طور پر جاری کرنے کے لیے ایک فکری گائیڈ (intellectual guide) درکار ہے۔ قرآن اسی قسم کا ایک فکری گائیڈ ہے، جو اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کا تفکیری عمل بھٹکے بغیر درست سمت میں جاری رہے۔ اسلام کی دریافت کے بعد انسان کی زندگی میں ایک نیا تفکیری عمل (intellectual process) شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک ارتقا یافتہ ذہن (developed mind) تیار ہوتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ چیزوں کو درست زاویہ نظر سے دیکھ سکے۔
تقویٰ (خوفِ خدا) کبر وغرور کا قاتل ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر انانیت (egoism) کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ تقویٰ آدمی کو کبر اور خود پسندی سے بچا لیتا ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ بے لاگ طور پر سوچے اور غیر جانبدارانہ انداز میں اپنی رائے قائم کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کو علمِ صحیح کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues